بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تقرری کے وقت تنخواہ میں اضافہ کا کہاگیا لیکن اضافہ نہیں کیا


سوال

محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عرض یہ ہے کہ میری ایک ادارے میں تقرری ہوئی تھی۔ تقرری کے وقت ادارہ کی طرف سے مجھے یہ بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر مجھے تین ماہ کے لیے بطور پروبیشن رکھا جائے گا، اور اس دوران میری ماہانہ تنخواہ 37,000 روپے مقرر کی گئی۔ نیز اس کے ساتھ یہ بھی واضح طور پر طے پایا تھا کہ تین ماہ مکمل ہونے کے بعد میری تنخواہ میں اضافہ کر دیا جائے گا، اور یہ اضافہ 50,000 سے 55,000 روپے ماہانہ تک ہوگا۔ تقرری کے وقت ادارے کے ساتھ اعتماد، حسنِ ظن اور باہمی احترام کی فضا تھی۔ الحمد للہ میں نے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری کے ساتھ ادا کیں، اور اب اس تقرری کو ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، لیکن ادارہ کی طرف سے تاحال میری تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ میں نے اس معاملہ میں کئی مرتبہ ادارہ کو یاد دہانی بھی کرائی ہے اور متعدد بار باقاعدہ درخواست بھی دی ہے، مگر اس کے باوجود تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ مزید یہ کہ ادارہ نے صرف میرے ساتھ ہی نہیں بلکہ میرے ساتھ دیگر کئی افراد کے ساتھ بھی اسی نوعیت کی بات چیت کی اور اس کی کئی بار یقین دہانی بھی کروائی، اور ادارہ نے کچھ دیگر افراد کے ساتھ اپنے معاہدے کو پورا بھی کیا ہے، لیکن میرے ساتھ کچھ دیگر افراد بھی ہیں جن کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو پورا نہیں کیا جا رہا۔

جواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ فریقین کے مابین جو معاہدہ ہو جائے اس کی پاسداری کرنا ضروری ہے۔لہذاصورت مسئولہ میں اگرادارےنےواقعتاً پروبیشن(آزمائشی مدت) کے بعدتنخواہ بڑھانے کا وعدہ کیا تھا اورسائل اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھارہا ہو، تو ادارے کا بلاوجہ وعدہ خلافی کرناشرعاً ناپسندیدہ ہے، لہذا ادارے کو چاہیے وہ اپنے معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئےتنخواہ بڑھادے۔تاہم جب تک ادارہ تنخواہ بڑھائےنہیں اس وقت تک ملازم صرف طےشدہ تنخواہ کا مطالبہ کرسکتا ہے،اس پر اضافےکا مطالبہ نہیں کرسکتا۔

 

 قال الله تعالیٰ: ﴿يَا أَيُّھَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ﴾ روي عن ابن عباس ومجاهد ومطرف والربيع والضحاك والسدي وابن جريج والثوري قالوا: "العقود في هذا الموضع أراد بھا العهود". (احكام القرآن للجصاص، ج:2، ص:221)


فتویٰ نمبر : 4047/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور