بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
ذكر كرتے وقت وساوس كا آنا
سوال
میں ایک الجھن کا شکار ہوں کہ جب بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہوں یا اس کا نام لیتا ہوں، تو غیر ارادی طور پر ایک لڑکی کا تصور یا شکل میرے ذہن میں آ جاتی ہے۔ میں اپنے عقیدے اور نیت میں مخلص ہوں، اللہ کی وحدانیت پر کامل یقین رکھتا ہوں اور میرا یہ پختہ ایمان ہے کہ میرے ذہن میں آنے والا یہ تصور قطعی غلط ہے۔ لیکن عبادت کے دوران اس طرح کے خیالات کا آنا مجھے پریشان کر دیتا ہے۔ کیا میرا عقیدہ صحیح ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں اگر کسی شخص کو غیر اختیاری وسوسہ آئے اور وہ اسے برا بھی سمجھتا ہو، تو یہ اس کے کامل ایمان کی علامت ہے۔ایک مرتبہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: "ہم اپنے دلوں میں ایسے خیالات (وساوس) پاتے ہیں جنہیں زبان پر لانا ہم بہت بڑا گناہ سمجھتے ہیں (اور ہمیں ان سے سخت تکلیف ہوتی ہے)۔" آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: "کیا واقعی تم ایسا محسوس کرتے ہو؟" انہوں نے عرض کیا: "جی ہاں!" تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو واضح اور صریح ایمان ہے۔
لہٰذا اگر سائل کے ذہن میں اللہ کا ذکر کرتے وقت کوئی غیر اختیاری تصور یا وسوسہ آئے جس پر اس کا یقین نہ ہو اور وہ اسے غلط سمجھتا ہو، تو اس سے اس کا عقیدہ ہرگز خراب نہیں ہوتا۔ ایسے خیالات سے پریشان ہونے کے بجائے انہیں نظر انداز کرنا چاہیے، کیونکہ یہ شیطانی مداخلت ہوتی ہے جو بندے کو عبادت سے دور کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔
عن أبي هريرة؛ قال: جاء ناس من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فسألوه:إنا نجد في أنفسنا ما يتعاظم أحدنا أن يتكلم به. قال: "وقد وجدتموه؟ " قالوا: نعم. قال" ذاك صريح الإيمان".(صحیح مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان الوسوسة في الإيمان وما يقوله من وجدها، ج:1، ص:132)
(في أنفسنا ما يتعاظم أحدنا أن يتكلم به) أي: نجد في قلوبنا أشياء قبيحة نحو: من خلق الله؟ وكيف هو؟ ومن أي شيء؟ وما أشبه ذلك مما يتعاظم النطق به لعلمنا أنه قبيح لا يليق شيء منها أن نعتقده، ونعلم أنه قديم، خالق الأشياء، غير مخلوق، فما حكم جريان ذلك في خواطرنا؟… «صريح الإيمان) أي: خالصه يعني أنه أمارته الدالة صريحا على رسوخه في قلوبكم، وخلوصها من التشبيه، والتعطيل؛ لأن الكافر يصر على ما في قلبه من تشبيه الله سبحانه بالمخلوقات، ويعتقده حسنا، ومن استقبحها، وتعاظمها لعلمه بقبحها، وأنها لا تليق به تعالى كان مؤمنا حقا، وموقنا صدقا فلا تزعزعه شبهة، وإن قويت، ولا تحل عقد قلبه ريبة، وإن موهت، ولأن من كان إيمانه مشوبا يقبل الوسوسة، ولا يردها.(مرقاة المفاتيح، كتاب الإيمان، باب فی الوسوسة، ج:1، ص:137)