بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
مستقبل میں طلا ق کی دھمکی
سوال
شادی کے بعد میں نے اپنی بیوی کو کچھ اوقات میں طلاق کی دھمکی دی تھی، تو کیا ان الفاظ کے کہنے سے نکاح پر کوئی اثر پڑتا ہے؟"خولہ بند کہ گنی طلاق درکومہ"۔(خاموش رہو ورنہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا)؟"دروغ مہ وایہ بس پہ ارام کینہ خولہ بند کہ گنی طلاق درکوم"۔(جھوٹ مت بولو، بس سکون سے بیٹھو، خاموش رہو ورنہ میں طلاق دے دوں گا)؟"خولہ بندہ ساتہ گنی طلاق درکوم"۔(اپنا منہ بند رکھو ورنہ میں تمہیں طلاق دےدوں گا)؟میں نے یہ تینوں جملے مختلف اوقات میں کہے ہیں، تو کیااس کے ساتھ نکاح ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟پشتو لفظ "گنی" (یعنی ورنہ) کے بارے میں میں نے معلومات حاصل کی ہیں کہ یہ دھمکی اور ارادے کا لفظ ہے، اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی؟لیکن پھر بھی میں دل کے اطمینان کے لیے مزید معلومات حاصل کر رہا ہوں۔
جواب
واضح رہے کہ طلاق ماضی یاحال پردلالت کرنےوالےالفاظ کے ساتھ واقع ہوتی ہے۔جن الفاظ میں مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی ہویامستقبل میں طلاق دینے کےعزم کا اظہارہوان سےطلاق واقع نہیں ہوتی۔
صورت مسئولہ میں اگر شوہرنےبیوی کویہ الفاظ کہے ہوں: خولہ بند کہ گنی طلاق درکومہ( خاموش رہو ورنہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا)۔دروغ مہ وایہ بس پہ ارام کینہ خولہ بند کہ گنی طلاق درکوم( جھوٹ مت بولو، بس سکون سےبیٹھو، خاموش رہوورنہ میں طلاق دےدوں گا)۔خولہ بندہ ساتہ گنی طلاق درکوم(اپنا منہ بند رکھو ورنہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا)۔یہ الفاظ چونکہ مستقبل کے لیے استعمال ہوتے ہیں،حال کے لیےنہیں،اس لیے ان الفاظ سے صرف ارادہ طلاق کا اظہارہوتا ہے،ان سے طلاق واقع نہیں ہوتی اورنکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال.(تنقیح الحامدیۃ،کتاب الطلاق،ج:1،ص:37)