بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

خیالات فاسدہ ووساوس شیطانیہ


سوال

عثمان کو طلاق کے وساوس آتے تھے ہر چھوٹی چھوٹی بات پر اس کو وساوس آتے تھے اس نے قسم کھا لی کہ اگر میں نے نکاح اور طلاق کے وساوس کا جواب دیا تو تو جب جب جواب دیا تب تب میرا عمل گستاخی رسالت ہوگا اور میں مرتد کافر ہوں گا اللہ مرتے ہوئے کلمہ طیبہ نصیب نہ دئ ۔ اگر عثمان طلاق کے وساوس کا جواب دے گا تو کیا وہ مرتد کافر ہو جائے گا کیا وہ تجدید ایمان سب کے سامنے کرے گا اگر خوئی شخص یہ مان جائے کہ اس نے گستاخی کی ہے تو اس کو پاکستانی قانون کے مطابق سزائے موت سزا ملتی ہے؟

جواب

 شرعی نقطہ نظر سےغیر اختیاری طور پر آنے والےوساوس پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہے،جب تک ان کے مطابق کوئی عمل صادرنہ ہوجائے۔ 

اس لیے سائل کو چاہیے کہ جہاں تک ممکن ہوان خیالات کو دور کرنے کی کوشش کرے، البتہ جو خیالات ووسوسےغیر اختیاری طور پر آتے رہیں ان کی کوئی پرواہ نہ کرے کیونکہ شرعاً ان پر کوئی مواخذہ نہیں بلکہ ان خیالات کی وجہ سے طبیعت کو جو تکلیف ہوتی ہےاسکا ثواب بھی ملتا ہے۔

 

عن أبي هريرة، قال: جاء ناس من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، فسألوه: إنا نجد في أنفسنا ما يتعاظم أحدنا أن يتكلم به، قال: وقد وجدتموه ؟ قالوا: نعم، قال: ذاك صريح الإيمان- (صحيح مسلم، كتاب الايمان، باب بيان الوسوسه من الايمان، ج:1، ص:،حديث:357)

عن أبي هريرة: أن النبي صلى الله عليه وسلم قَال عبد الرحمن، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن الله تعالى تجاوز عن أمتي، كل شيء حدثت به أنفسها، ما لم تكلم به، أو تعمل".( سنن النسائي، كتاب الطلاق ،باب من طلق في نفسه،رقم الحديث3211،ج:2، ص:723)


فتویٰ نمبر : 6654/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور