بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

موبائل فون پریاکسی دوسرے آن لائن طریقےسےنکاح کرنےکاحکم


سوال

موبائل فون پرویڈیوکال یاکانفرنس کال کی شکل میں یا کوئی جدید سسٹم ہویا تاروالا ٹیلی فون ہو،اس پرایجاب وقبول سےنکاح منعقد ہوسکتاہےیانہیں؟ نیزدرجہ ذیل فتاویٰ میں تعارض کا کیا حل ہوگا؟فتاویٰ عثمانیہ ،کتاب النکاح ،ج:2، ص:305،فتاویٰ محمودیہ، کتاب النکاح ج:6،ص: 252، فتاویٰ فریدیہ، کتاب النکاح،ج:5،ص:419 ،فتاویٰ عبادالرحمن، کتاب النکاح ،ج:3،ص:344، فتاویٰ رحیمیہ، کتاب النکاح، ج:8، ص:183، موبائل فون کا استعمال مؤلف مفتی شیخ بلال بابر، فتاویٰ حقانیہ، کتاب النکاح، ج:4، ص:311،خیرالفتاویٰ، کتاب النکاح، ج:6، ص:370، پہلے 6 فتاویٰ میں نکاح منعقد نہ ہونے کا فتوی دیا گیا ہےاورآخری دو فتاویٰ میں جوازکا فتویٰ دیا ہے؟

 

جواب

واضح رہے کہ عقد نکاح میں عاقدین اورگواہان کاایک ہی مجلس عقد میں موجود ہوناشرط ہے۔ چنانچہ اگرعاقدین میں سے کوئی بھی ایجاب یاقبول کئے بغیرکھڑا ہوجائےیا کسی دوسرے ایسےکام میں مشغول ہوجائےجواس کی بے رغبتی اوراعراض پردلالت کرتا ہو،تومجلس عقد ختم ہوجائے گی۔ نیزیہ بھی واضح رہے کہ اگرفریقین میں سے کوئی ایک مجلس عقد میں نہ ہوبلکہ موبائل فون پر یاویڈیو کال پریا کانفرنس کال کے ذریعے سےعقد نکاح کا ایجاب یاقبول کرتاہوتو مجلس عقدایک نہ ہونے کی وجہ سےنکاح منعقد نہیں ہوتا۔اکثرمفتیان کرام اوردارالافتاء جامعہ عثمانیہ پشاورکی رائے یہی ہےکیونکہ ان آلات کےذریعےاگرچہ بظاہرعاقدین کی تمییزہوسکتی ہےلیکن حقیقت یہ ہے کہ (AI)یعنی مصنوعی ذہانت کی وجہ سےعاقد نکاح کی تمییزمیں اشتباہ باقی رہے گا اس لئے آن لائن ذرائع کوایک مجلس قرارنہیں دیا جاسکتا۔

 

ومن ‌شرائط ‌الإيجاب ‌والقبول: اتحاد المجلس،قال إبن عابدين تحت (قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد، فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر بطل الإيجاب.(ردالمحتار مع الدر المختار،كتاب النكاح، ج:3، ص:14)


فتویٰ نمبر : 7397/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور