بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
افطاری کے وقت میں اہل سنت اور روافض کا اختلاف
سوال
افطاری کی نسبت اہل سنت والجماعت اور روافض میں کس قدر اختلاف پایا جاتا ہے، دونوں طرف کے دلائل اور اہل سنت کی ترجیح سےآگاہی فرمائیں۔
جواب
واضح رہے کہ اہلِ سنت کے نزدیک سورج کے غروب ہونے کا یقین ہوتے ہی فوراً افطاری کرنا افضل اور سُنت ہے، البتہ تھوڑی دیر بعد افطار کرنا جائز ہے، اور اس سے روزے پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور روافض کے نزدیک جب آسمان پر پوری طرح اندھیرا چھا جائے جو کہ ان کے مطابق غروبِ آفتاب سے 20 سے 25 منٹ بعد کا وقت بنتا ہے، تو اس وقت افطارکیا جائے گا۔ شیعہ کی کتابوں میں سےبعض کتب جیسے "مجمع البیان فی تفسیر القرآن"، "بحارُ الانوار"، "تفسیر انوارِ نجف" وغیرہ میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ سورج غروب ہوتے ہی افطار کرنا بھی جائز ہے۔ اختلاف کی مزید تفصیل کے لیے فتح الباری(ج:4،ص:712) شرح الزرقانی علی مؤطا امام مالک (ج:2، ص:211) المنھل العذب المورود شرح سنن الامام ابی داود (ج:10، ص:76) کو ملاحظہ کیا جا سکتاہے۔
قال الله تعالى:﴿ثُمَّ أَتِمُّواْ ٱلصِّيَامَ إِلَى ٱلَّيۡلِ﴾ [البقرة: 187]
عن عمر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا أقبل الليل وأدبر النهار، وغابت الشمس فقد أفطر الصائم۔ (صحيح مسلم، باب بيان وقت انقضاء الصوم وخروج النهار، رقم الحديث:1100)
عن أبي عطيَة قال: دخلت على عائشة أنا ومسروق فقلنا: يا أمّ المؤمنين رجلان من أصحاب محمَد صلى الله عليه وسلم أحدهما يعجل الإفطار ويعجل الصلاة، والاخر يوخر الإفطار ويؤخر الصّلاة، قالت: أيهما يعجل الإفطار ويعجل الصلاة، قلنا: عبد الله قالت: كذلك كان يصنع رسول الله صلى الله عليه وسلم. (سنن أبي داود، باب ما يستحب من تعجيل الفطر، رقم الحديث:2354)