بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
مسلمان کو کافر کہنا
سوال
ایک شخص اپنے بیٹے کا پاخانہ صاف کر رہا تھا کہ اس کی بیوی غصے میں بولی کہ تم نے ہندو کاپاخانہ صاف کیا ہے؟تو کیا ان الفاظ کہنے سے اس کی بیوی پر تجدیدِ ایمان لازم ہوگا؟ جبکہ وہ اپنے بیٹے عبدالرحمن کو مسلمان ہی سمجھتی ہے۔
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو "کافر "کہے، تو اگر کہنے والےکا مطلب گالی دینا ہو اور حقیقت میں اس کو کافر نہ سمجھتا ہو تو اس سے کہنے والا گناہ گار ہوتا ہے، دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔
صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ عورت ان الفاظ کہنے کی وجہ سے گناہ گار ہے اس لیے اس کو توبہ و استعفار کرنا چاہیئے،لیکن تجدیدِ ایمان کی ضرورت نہیں۔
إذا قال لغيره يا كافر أو للمرأة يا كافرة ولم يقل المخاطب شيئا...والمختار في مثل هذه المسائل: أنه إذا أراد الشتم ولا يعتقده كافرا لا يكفر، وإن اعتقده كافرا فخاطبه علی اعتقاده أنه كافر كفر، لأنه اعتقد المسلم كافرا فقد اعتقد دين الإسلام كفرا، ومن اعتقد دين الإسلام كفرا فهو كافر. (الفتاوی البزازیه،كتاب السير ، ج:3، ص:185)