بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تین طلاقوں میں تاکید کی نیت کرنا


سوال

ا یک شخص نے اپنی بیوی کو تین بار کہا: "میں طلاق دیتا ہوں، میں طلاق دیتا ہوں، میں طلاق دیتا ہوں۔" اب وہ حلفاً یہ کہتا ہے کہ میری  نیت  ایک طلاق کی تھی اور باقی دو جملے اس نے محض تاکیدکے لیے کہے تھے۔ اس شخص نے اب رجوع بھی کر لیا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ شرعاً اس "تاکید" کی کیا حیثیت ہے؟ کیا اس صورت میں رجوع کرنا شرعاً جائز ہے یا یہ طلاقِ مغلظہ واقع ہو چکی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ طلاق کے صریح الفاظ بولنے سے طلاق فوراً واقع ہو جاتی ہے، خواہ کہنے والے کی نیت ہو یا نہ ہو۔ اگر ان الفاظ کے تکرار سے مقصود محض تاکید (بات پر زور دینا) ہو، تو شرعاً ایک ہی طلاق شمار کیا جائے گا؛ بصورتِ دیگر جتنی مرتبہ الفاظ ادا کیے گئے ، اتنی ہی طلاقیں واقع ہوں گی۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ  کے مطابق اگر کوئی شخص بیوی کو تین بار طلاق دینے کے بعد یہ دعویٰ کرے کہ اس کی نیت صرف ایک طلاق کی تھی اور بقیہ الفاظ محض تاکید کے طور پر کہے تھے، تو 'دیانتاً (یعنی اللہ اور بندے کے درمیان معاملے کی حد تک) اس کا قول معتبر ہوگا اور ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔ تاہم قضاءً (یعنی عدالتی کارروائی اور ظاہری ثبوت کے اعتبار سے) اسے تین ہی طلاقیں شمار کیا جائے گا، جس سے عورت مطلقہ مغلظہ ہو جائے گی۔

 

‌كرر ‌لفظ ‌الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين.(ردالمحتار علی الدر المختار، کتاب الطلاق، مطلب الطلاق يقع بعدد قرن به لا به، ج:3، ص:293)


فتویٰ نمبر : 7394/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور