بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

میڈیکل بلنگ کا کام


سوال

میں آن لائن میڈیکل بلنگ کا کام سیکھ رہی ہوں۔ اس کام میں ڈاکٹر مریض کا علاج کرتا ہے، پھر اس علاج کی تفصیل انشورنس کمپنی کو بھیجی جاتی ہے اور وہ کمپنی ڈاکٹر کو رقم ادا کرتی ہے۔ اگر پوری رقم ادا نہ کرے تو باقی مریض سے وصول کی جاتی ہے۔ امریکہ میں عموماً ڈاکٹر اور مریض دونوں کا ایک ہی انشورنس کمپنی کے ساتھ رجسٹر ہونا ضروری ہوتا ہے، تب ہی ادائیگی ہوتی ہے۔ میرا کام صرف ڈاکٹر کی طرف سے علاج کی تفصیل انشورنس کمپنی تک پہنچانا اور آنے والی ادائیگی کا ریکارڈ بنانا ہوتا ہے۔ میں نہ انشورنس کا معاہدہ کرتی ہوں اور نہ ہی سود کا کوئی براہِ راست لین دین کرتی ہوں۔ مجھے تنخواہ ڈاکٹر دیتا ہے۔ جبکہ عام انشورنس کو سود کی وجہ سے ناجائز کہا جاتا ہے، تو کیا اس طرح صرف دفتری کام کرنا شرعاً جائز ہے؟ اور کیا اس کی کمائی حلال ہوگی؟

جواب

کسی ادارے یا کمپنی میں ملازمت کے جائز یا ناجائز ہونے کا مدار اِس بات  پر ہے کہ وہ اپنے ملازم سے کیا کام کرواتی ہے اور اس ادارے کے اغراض و مقاصد کیا ہیں ۔اگر کوئی ادارہ اپنے ملازم سے ایسے کام  کرواتا  ہو، جو غیر شرعی ہو ں یا اس کے اغراض و مقاصد  خلاف شرع ہوں تو اس ادارے میں ملازمت جائز نہیں، البتہ اگر ملازم سے خلاف شریعت کام نہیں لیا جاتا اور مقاصد بھی غیر شرعی نہ ہوں تو اِس ادارے  میں ملازمت جائز ہے۔

 انشورنس کمپنیوں کی پالیسیاں چونکہ سود ،قمار،اور غرر جیسے ناجائز اُمور پر مشتمل ہوتی  ہیں ،  اس وجہ سے ان کمپنیوں  میں ملازمت کرنا جائز نہیں، تاہم صورت مسئولہ میں اگر ڈاکٹر مریضوں کا علاج کرتاہو  اور ان کے علاج کی  فیس یا دیگر اخراجات انشورنس کمپنی ادا کرتی ہو، تو اس کے لئے دستاویزات تیار کرنا بذات خود کوئی ناجائز کام نہیں اس لئے اگر کوئی بطور ملازم یہ دستاویزات تیار کرتا ہواور اس کی تنخواہ اس کو ڈاکٹر یا ہسپتال کی جانب سے ادا  کی جاتی ہو تو ایسی ملازمت جائز ہے، البتہ اگر تنخواہ انشورنس کمپنی ادا کرتی ہو تو پھریہ ملازمت  جائز نہ ہوگی۔

 

عن جابر، قال:لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا، وموكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء.( صحيح مسلم، كتاب المساقاة، باب لعن آكل الربا و موكله، ج:2، ص:27)

الأجير الخاص يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضراّ للعمل و لا يشترط عمله بالفعل غير أنه يشترط أن يتمكن من العمل فلو سلم نفسه ولم يتمكن منه لعذر كالمطر والمرض فلا أجر له  لكن ليس له أن يمتنع عن العمل و إذا امتنع لا يستحق الأجرة.(شرح المجلة لسليم رستم ، ج:1، ص:239، رقم المادة:425)

(ولا يجوز على الغناء والنوح والملاهي) ؛ لأن المعصية لا يتصور استحقاقها بالعقد فلا يجب عليه الأجرة من غير أن يستحق عليه؛ لأن المبادلة لا تكون إلا عند الاستحقاق وإن أعطاه الأجر وقبضه لا يحل له ويجب عليه رده على صاحبه.( البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الإجاره، باب الإجارة الفاسدة، ج:8، ص34)


فتویٰ نمبر : 4052/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور