بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ڈھائی تولے سونے پر زکوٰۃ


سوال

میرے پاس ڈھائی تولہ سونا موجود ہے۔ باقی میرے پاس جمع پونجی کوئی رقم نہیں نہ بینک میں نہ گھر میں۔ میری تین چھوٹی بچیاں ہیں جن کے کانوں میں چاندی کے چھوٹی چھوٹی تار کی بالیاں ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں ان ڈھائی تولہ سونا پر زکوۃ دوں گا۔ یا جو چاندی میری بچیوں کے کانوں پہ ہے اس کی وجہ سے مجھے سونے کی قیمت چاندی میں تبدیل کر کے کل قیمت پر زکوۃ ادا کرنا  ہوگا؟ میں ایک سرکاری ملازم ہوں اور میری تنخواہ گھر کے کاموں میں مہینے کے اندر صرف ہو جاتی ہے اس لیے میرے پاس بچتا کچھ بھی نہیں ہے۔ ہاں شادی کا کچھ سامان جہیز کی صورت میں بیوی کے پاس پڑا ہوا ہے جس میں برتن اور استعمال کی کچھ اشیاء ہیں جو ابھی تک پیک پڑی ہوئی ہیں باقی نہ کوئی رقم ہے اور نہ کوئی بینک میں جمع پونجی۔

جواب

واضح رہے کہ زکوٰۃ کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ نصاب کامل ہو یعنی ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر نقد رقم یا سامان تجارت ہو۔ اگر ان میں سے کوئی ایک نصاب بھی پورا نہ ہو بلکہ کچھ سونا ہو، کچھ چاندی ہو اور کچھ نقد رقم ہو تو اس صورت میں ان کو اجزاء کے اعتبار سے ملاکر دیکھا جائے گا اگر ملانے سے نصاب پورا ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہوگی  ورنہ نہیں۔

صورت مسئولہ میں اگر سائل کے پاس صرف ڈھائی تولہ سونا ہو تو صاحب نصاب بننے کے لئے اس کے پاس (35) تولہ چاندی یا اس کی قیمت کا ہونا ضروری ہے ورنہ اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔ نیز بچیوں کے پاس جو چاندی ہے اگر سائل نے یہ ان کی ملکیت میں دی ہو تو اس کو اپنی ملکیت کے ساتھ حساب نہیں کرے گا۔

 

‌ومنها ‌كون ‌المال نصابا، فلا تجب في أقل منه۔ ( الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، ج:1،ص:172)

ثم اختلفوا في كيفية الضم، فقال أبو حنيفة رحمه الله تعالى: يضم أحدهما إلى الآخر باعتبار القيمة، وقال أبو يوسف و محمد باعتبار الأجزاء وهو إحدالروايتين عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى۔ (كتاب المبسوط، كتاب الزكاة، باب زكاةالمال، ج:2، ص:193)


فتویٰ نمبر : 10915/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور