بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
كریڈیٹ کارڈ سویپ کرکے نقد رقم دینے پر کمیشن لینا
سوال
میرا کاروبار ہے اور میرا بینک میں اکاؤنٹ بنا ہوا ہے، انہوں نے مجھے پی او ایس مشین دی ہوئی ہے جس میں لوگ کریڈٹ کارڈ یا ڈیبٹ کارڈ کے ذریعہ اشیاء کی خریداری کرتے ہیں اب کوئی بندہ میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ میرے کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ مجھے رقم دے دو میں اشیاء کی خریداری نہیں کر سکتا ہوں، میں اس کو پی او ایس مشین میں سویپ کر کے اس کو رقم دے دیتا ہوں اور وہ تین، چار فیصد کمیشن مجھے دیتا ہے اور اس تین چار فیصد کمیشن میں سے بھی کچھ رقم بینک اپنے چارجز کاٹ لیتا ہے۔ تو کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ کریڈیٹ کارکے ذریعے خریداری کرنے یا نقد رقم نکالنے کی اجازت ہوتی ہے، کریڈیٹ کارڈ کے ذریعےاگر بینک سے نقد رقم نکالنا ہو تو اس پر فورا سود کا حساب شروع ہوتا ہے اور اگر اس کے ذریعے خریداری کرنی ہو تو اس صورت میں متعینہ مدت تک وہی رقم جب کہ اس کے بعد سود کے ساتھ ادائیگی لازم ہوتی ہے ، شرعا یہ ایک ناجائز اور حرام معاہدہ ہے، اس لیے اس کارڈکا اجرا اور استعمال کرنا جائز نہیں ،تاہم اگر کسی شخص کے لیے ضرورت ہو اور وہ کریڈیٹ کارڈ بنوالے تو اس کے استعمال کے لیے ضروری ہے کہ وہ متعینہ مدت کے اندر قرض کی ادائیگی کرتا رہے، اور سود کا معاہدہ کرنے پر توبہ و استغفار کرے ۔ نیز یہ کہ پی،او،ایس مشین جاری کرنے والے بینک کی طرف سے تاجر کو یہ اجازت نہیں ہوتی، کہ وہ گاہک سے کارڈ سویپ کراکر اس کو نقد رقم دے، چنانچہ تاجر کارڈ سویپ کرکے نقد رقم دینے کی صورت میں خرید وفروخت کی جعلی رسید بنا کر بینک کو بھیجے گا، جو صاف طور پر دھوکہ ہے اس لیے ناجائز ہے۔
عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال: أصابته السماء، يا رسول الله. قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس؟ من غش فليس مني. (صحيح مسلم، کتاب الإيمان، رقم الحديث:164 ج:1، ص:69)
كل قرض جر نفعا فهو حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن كما في الظهيرية. (الأشباه والنظائر لابن نجيم، ص144)