بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ذاتی مال میں بہن بھائیوں کا حصہ


سوال

اگر کوئی شخص والد صاحب کی زندگی میں اپنی محنت و کمائی سے کاروبار شروع کرے اور اسی کاروبار کی رقم سے زمین بھی خرید لے، اس میں والد اور بھائیوں کا کوئی عمل دخل نہ ہو تو والد صاحب کی وفات کے بعد اس زمین اور کاروبار وغیرہ میں سارے بہن بھائیوں کا حق ہوگا یا نہیں؟ نیز اگر کوئی اپنے بہن بھائیوں میں سے کسی پر کچھ  خرچ کرے تو اس سے بعد میں مطالبہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جو مال کسی نے اپنی  ذاتی محنت سے کمایا ہو، تو وہ اس کی اپنی ملکیت شمار ہوتی ہے کسی دوسرے کا اس میں حصہ نہیں بنتا۔

لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق، اگر واقعی کوئی اپنی ذاتی محنت سے کمائے ہوئے مال سے کاروبار شروع کرے اور ذاتی مال سے زمین خریدے تو وہ اس کی ذاتی ملکیت شمار ہوگی اس میں کوئی دوسرا اس کے ساتھ حصہ دار نہ ہوگا۔ نیز جو کچھ بہن بھائیوں پر تبرعًا خرچ کیا ہوتو اس کا مطالبہ کرنا جائز نہیں۔

 

لولم یکن للأب عمل ولاکسب، بل العمل والکسب للابن، یکون المال المتحصل للابن خاصة. (شرح المجلة لخالدالأتاسی، المادۃ:1398، ج:4، ص:320)

وهب هبة لذي رحم محرم؛ فقبضها: فليس له أن يرجع فيها. (المبسوط للسرخسي،كتاب الهبة،ج:12،ص:49)


فتویٰ نمبر : 3814/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور