بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

شوہر کو یہ کہنا "بکواس نہ کر تیرے لیے نمازپڑھتی ہوں کیا"؟


سوال

ایک عورت نمازپڑھ رہی تھی اس کےشوہر نے کہا عشاء کے وتر پڑھ لیے عورت بولی بکواس نہ کر تیرے لیے نمازپڑھتی ہوں کیا؟ کیا عورت کو تجدید ایمان کرناپڑے گا جبکہ اس کی کفر کی نیت نہ تھی بلکہ شوہر سے بدتمیزی کرنا چاہتی تھی۔

جواب

واضح رہے کہ اللہ تعالى نے بیوی پر خاوند کی اطاعت لازم کی ہے، جب تک خاوند اسے اللہ کی معصیت کا حکم نہ دے، بیوی پر واجب ہے کہ وہ خاوند کی ہر بات مانے اور اس کے ہر حکم کو بجا لائے۔

صورت مسئولہ میں چونکہ مذکورہ عورت صرف اپنے شوہر کے ساتھ بد اخلاقی سے پیش آئی اس وجہ سے اس قول کی وجہ سے وہ ایمان سے نہیں نکلتی، تاہم بیوی کو چاہیے کہ شوہر کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئے۔

 

(وإن) ‌أنكر ‌بعض ‌ما ‌علم من الدين ضرورة (كفر بها)إذ لا خلاف في كفر المخالف في ضروريات الإسلام من حدوث العالم وحشر الأجساد ونفي العلم بالجزئيات وإن كان من أهل القبلة. (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:561)

والإيمان: هو الإقرار با لسَان، والتّصديق بالجنا ن، وجميع ما صحّ عن رسول اللّه صلى الله عليه وسلم من الشّرع والبيان كلّه حقٌ۔ (شرح العقيدة الطحاوية، ص: 332)


فتویٰ نمبر : 6636/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور