بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
قربانی کےوجوب میں مالداری کامعیار
سوال
میری ایک چھوٹی سی ھارڈویراورپینٹ کی دوکان ہےاوراس میں ساراسامان قرضہ پرہے یعنی بڑی دکانوں سےادھارپرلیا ہےاورمیں نےایک سوزوکی گاڑی بھی قسطوں پرلی ہے،ہرماہ کی قسط 60000 ہےگاڑی کی قیمت دس لاکھ ہے اوراس میں اب تقریبا تین لاکھ بقایا ہےیعنی 5قسطیں بقایا ہیں،میں ایک پلازے میں بطورِمنشی بھی کام کرتا ہوں جس کی مجھے 25000 تنحواہ ملتی ہےاورگاڑی پرمزدوری کرتا ہوں اورگاڑی سےاوسطاَچالیس ہزارہرماہ کماتاہوں اورمیں خود چلاتا ہوں تنخواہ اورگاڑی کی آمدن اکٹھی کرکے قسط دیتا ہوں تو اسں صورت میں کیا مجھ پرقربانی واجب ہوتی ہے؟جب کہ اس وقت میرے پاس نقد کوئی رقم نہیں ہے۔
جواب
شریعت مطہرہ کی روسے ہراس شخص پرقربانی واجب ہوتی ہے جوضروریات اصلیہ کے علاوہ مقدارنصاب یعنی ساڑھے باون تولے چاندی یااس کی قیمت یاساڑھےسات تولےسونےکا مالک ہو،البتہ اگرکسی پراتناقرضہ ہوکہ مملوکہ مال میں سےاس کو منھا کیا جائے تومقدارنصاب ختم ہوجائے تو پھر قربانی کرنا واجب نہیں ہوگی۔
صورت مسئولہ میں سائل اگرمذکورہ اشیاء کےعلاوہ کسی مال کا مالک نہ ہوتواس پرقربانی واجب نہیں ۔
الغنى أنواع ثلاثة أحدها الغنى الذي يتعلق به وجوب الزكاة وهو أن يملك نصابا من المال الفاضل عن الحاجة الموصوف بالنماء والزيادة إما بالأسامة أو التجارة والثاني الغنى الذي يتعلق به حرمان الصدقة ويتعلق به وجوب صدقة الفطر والأضحية دون وجوب الزكاة وهو أن يملك من الأموال الفاضلة عن حوائجه ما تبلغ قيمته مائتي درهم بأن كان له ثياب وفرش ودور وحوانيت ودواب زيادة على ما يحتاج إليه للابتذال لا للتجارة والأسامة.(تحفة الفقهاء،كتاب الزكوة، باب من يوضع فيه الصدقة، ج:1، ص:301)
ولو كان عليه دين بحيث لو صرف فيه نقص نصابه لا تجب…..،وفي الأجناس رجل به زمانة اشترى حمارا يركبه ويسعى في حوائجه وقيمته مائتا درهم فلا أضحية.(الفتاوى الهندية،كتاب الأضحية، الباب الأول في تفسير الأضحية وركنها وصفتها وشرائطها وحكمها، ج:5، ص:293،92)