بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
ایک بیوہ، دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے درمیان تقسیم وراثت
سوال
ایک شخص فوت ہو چکا ہے اس کے ورثا میں سے ایک بیوہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی زندہ موجود ہیں اب مرحوم کا ترکہ مذکورہ ورثا میں کس حساب سے تقسیم ہوگا؟
جواب
میـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ(40)ــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیوہ بیٹا بیٹا بيٹی
5 14 14 7
بشرطِ صدق و ثبوت اگر مرحوم کے مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ اور کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہوتو بعد از ادائے حقوقِ متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ چالیس (40) حصوں میں تقسیم کرکے بیوہ کو5/40 حصے، دو بیٹوں میں سے ہر بیٹے کو 14/40 حصے، جبکہ بیٹی کو 7/40 حصے ملیں گے۔
قال الله تعالى: ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [النساء: 11]
وقال تعالى: ﴿فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ﴾ [النساء: 12]