بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
غیر مسلم کی وفات پر تعزیت کے لیے ہاتھ اٹھانا
سوال
کفار کی وفات پر ان کی تعزیت کے لیے ہاتھ اٹھانے کی اجازت ہے یا نہیں اور ان کی تعزیت میں ہاتھ اٹھا کر ان کے لیے دعا کرسکتے ہے کہ نہیں اور اگر کسی شخص نے جان بوجھ کر کفار کی وفات پر ان کی تعزیت کےلئے ہاتھ اٹھائے یا دعا کی تو کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ شریعت میں ان لوگوں کے لیےمغفرت کی دعا کرنےسےمنع کیا گیا ہے، جن کی وفات کفر کی حالت پرہوئی ہو،اس لیے کسی مسلمان کےلیے جائز نہیں کہ فوت شدہ غیرمسلموں کےلیے مغفرت کی دعا کرےورنہ گناہگار ہوگا۔البتہ کفارکی وفات پران کےاعزہ و اقارب کے ساتھ اس طرح تعزیت کی جا سکتی ہے کہ اس سے مقصودان کے ساتھ ہمدردی کا اظہاراوران کےلیے صبراورخیر وبھلائی کی دعا کرنا ہو، اور تعزیت کرتے ہوئے اگر ہاتھ اٹھا کران کے لیے ہدایت یا صبرکی دعا کی جائے تو یہ بھی جائز ہے ۔البتہ کافر کے لیے دعائے مغفرت ہرگز نہ کی جائےکیونکہ اس سےصاف الفاظ میں منع کیا گیا ہے۔
قال اللہ تعالی: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ ﴾۔ ]سورۃ التوبۃ:113 [
الحق حرمۃ الدعاء بالمغفرۃ للکافر۔(الدر المختار،کتاب الصلاۃ،ج:1،ص:523)
وفي النوادرجار يهودي أومجوسي مات ابن له أوقريب ينبغي أن يعزيه، ويقول أخلف الله عليك خيرا منه، وأصلحك وكان معناه أصلحك الله بالإسلام يعني رزقك الإسلام ورزقك ولدامسلما كفاية .(ردالمحتار،کتاب الحظروالاباحۃ،ج:6 ص:388 )