بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
بیوی کی جانب سے زکوۃادا کرنے کی ایک صورت
سوال
اگرکسی مستحق زکوۃ کو زکوۃ دی گئی تاکہ وہ کسی رفاہی ادارے کو ہدیہ کرے اپنی مرضی سے ،مگر مستحق نے اس زکوۃ کو قبول کرنے کے بعد اپنی بیوی کی طرف سے کسی دوسرے مستحق کو دے دیا اور کہا کہ یہ میری بیوی کی طرف سے زکوۃ ہے اور اس کو قبول کرکے فلاں رفاہی ادارے کو اپنی خوشی سے دے دو تو اس صورت میں اس پہلے مستحق کی بیوی کی طرف سے زکوۃ اداہو جائے گی یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ جب کسی مستحق شخص کو زکوۃ کی رقم مالکانہ قبضہ کے ساتھ دی جائے تو ایسی صورت میں وہ شخص اس رقم کا مالک بن جاتا ہے اس کے بعد وہ اپنی مرضی سے اسے جہاں چاہے خرچ کر سکتا ہے۔ اگر چہ زکوۃ دینے والے نے کسی خاص جگہ خرچ کرنے کا کہا ہو ۔
صورت مسئولہ میں جب مستحق شخص کو زکوۃ کی رقم مالکانہ قبضہ کے ساتھ دی گئی اور پھر ا س نے بیوی کی اجازت سے اس کی زکوۃ کے طور پر وہ رقم کسی مستحق زکوٰۃ کو بیوی کی جانب سے زکوٰۃ کی مد میں دیدی تو ایسی صورت میں اس شخص کی بیوی کی طرف سے زکوۃ ادا ہو جائے گی۔
هي تمليك المال من فقيرٍ مسلمٍ غير هاشميٍّ ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملّك من كلّ وجه.(كنز الدقائق، كتاب الزكوة، ص:203)
هِيَ تَمْلِيكُ الْمَالِ مِنْ فَقِيرٍ مُسْلِمٍ غَيْرِ هَاشِمِيٍّ وَلَا مَوْلَاهُ بِشَرْطِ قَطْعِ الْمَنْفَعَةِ عَنْ الْمُمَلِّكِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ لِلَّهِ تَعَالَى .(تبيين الحقائق، كتاب الزكوة، ج:1، ص:251)
ھی تملیک المال من فقیر مسلم غیر ھاشمی ولا مولاہ بشرط قطع المنفعۃ عن الملک من کل وجہ للہ تعالی (الفتاؤى الهندية، کتاب الزکاۃ، ج: 1، ص: 170)