بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
میت کے لئے چندہ جمع کرنا
سوال
ہمارے علاقے کے جو افراد بیرونِ ملک، خصوصاً ابو ظبی اور سعودی عرب میں ملازمت یا کاروبار کے سلسلے میں مقیم ہوتے ہیں، انہوں نے آپس میں ایک باقاعدہ اتحاد قائم کیا ہوا ہے۔ اس اتحاد کا باہمی معاہدہ یہ ہے کہ اگر ان میں سے کسی فرد کا انتقال ہو جائے تو تمام اراکین پر برابر رقم دینا لازم ہوتا ہے۔ مثلاً اگر فی کس دس ریال مقرر ہوں تو ہر رکن دس ریال ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے، اور یوں مجموعی رقم جمع ہو کر مرحوم کے ورثا کو دی جاتی ہے، جو بسا اوقات ایک یا دو کروڑ روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ اسی طرح اگر کسی رکن کو حادثہ پیش آئے اور وہ زخمی ہو جائے تو اس کے لیے بھی تمام اراکین برابر حصہ ڈالتے ہیں، البتہ اس صورت میں نصف رقم دی جاتی ہے۔ اب دریافت طلب امور یہ ہیں: اس معاہدہ نما اتحاد اور اس میں لازم کیے گئے مساوی چندہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ مرحوم کے ورثاء کو ملنے والی یہ رقم میراث کے حکم میں آئے گی یا باہمی تعاون و تبرع (ہبہ) کے حکم میں؟ اگر علاقے میں عمومی طور پر میراث شرعی طریقے سے تقسیم نہیں کی جاتی اور عورتوں کو حصہ نہیں دیا جاتا، تو کیا اس رقم کی تقسیم میں شرعی میراث کے احکام لازم ہوں گے؟ اگر میت کا بیٹا نابالغ ہو اور بیٹیاں بالغ ہوں، اور یہ رقم نابالغ کے ولی کے پاس امانت کے طور پر رکھی جائے، تو کیا اس رقم پر زکاۃ واجب ہوگی؟ یاد رہے کہ یہ روپے اس لئے دئے جاتے ہیں کہ انتقال ہونے والے شخص نے دیگر لوگوں کے وفات ہونے پر چندہ دیا ہوتا ہے یا دینے کا وعدہ کیا ہوتا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ موجودہ دور میں جب کہ فکرِ معاش میں لاکھوں لوگ بیرونِ ملک مسافرت کی زندگی گزارتے ہیں وہاں ان کو درپیش مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہاں کوئی مسافر فوت ہوجائے تو اس کو اپنے وطن منتقل کرنے پر خطیر اخراجات آتے ہیں جس کو برداشت کرنا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا اس لئے بیرونِ ملک مسافروں کی یہ ایک واقعی ضرورت ہے جس کا وہ احساس کرکے باہمی معاہدہ کرتے ہیں۔ ان معاہدوں کے جو مقاصد ہوتے ہیں وہ شرعی لحاظ سے درست ہوتے ہیں مثلا یہ کہ: میت کے اہل و عیال کے لئے خیرخواہی کا جذبہ، ورثا کو اس مشکل وقت میں قرضوں کے بوجھ سے بچانا، ضرورت مند پسماندہ گان کے لئے مالی مفاد کا حصول... ظاہر ہے کہ یہ سب مقاصد شریعت کی نگاہ میں نہ صرف یہ کہ قابل قبول ہیں بلکہ قابل تحسین بھی ہیں۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ ایسے مقاصد پر مشتمل معاہدوں میں شریک ہونے والے افراد اپنی رضامندی سے اس معاہدے کا حصہ بنیں۔ اور اپنی ہی رضامندی سے کوئی رقم مختص کرلیں اور کسی مرتبہ وہ نہ دیں تو ان کو برا نہ سمجھا جائے۔ اور واضح رہے کہ میراث کا تعلق اس مال سے ہے جو مورِث کی ملکیت میں ہو اور وہ اس مال کو چھوڑ کر چلا جائے، موت کے بعد ملنے والی رقم کی حیثیت ہبہ کی ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں:1. میت کے لئے مذکورہ شرائط کے ساتھ وقتی ضرورت کی بنیاد پر چندہ کی اپیل کرکے رقم جمع کرنا اور ورثاء تک پہنچانا جائز ہے، اور محض باہمی تعاون و تبرع ہونے کی وجہ سے ورثا کے لئے اسے قبول کرنے میں حرج نہیں، اورمعاہدہ کا سربراہ چندہ دہندگان کی طرف سے وکیل ہوگا، اس لئے اس کی ذمہ داری ہوگی کہ امانت و دیانت کے ساتھ یہ رقم جلد از جلد ورثا تک پہنچائے۔ 2. ورثا کو مورِث کی موت کے بعد ملنے والی رقم کی حیثیت ہبہ کی ہے جس میں میراث کی طرح تقسیم لازم نہیں، بلکہ کمیٹی چندہ دہندگان کی رضامندی سے جو اصول طے کرے اسی اصول کے مطابق وہ رقم تقسیم کی جائے۔ 3. نابالغ کو ہبہ میں ملنے والے مال پر زکوۃ واجب نہیں، کیونکہ زکوۃ کے وجوب کے لئے بالغ ہونا شرط ہے۔
عن جعفر بن خالد، عن أبيه عن عبد الله بن جعفر، قال: لما جاء نعي جعفر، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اصنعوا لآل جعفر طعاما، فقد أتاهم ما يشغلهم" أو "أمر يشغلهم" (سنن ابن ماجه، جلد:2، ص:537)
والحديث أصل في المشاركات عند الحاجة، وصححه الترمذي. والسنة فيه أن يصنع في اليوم الذي مات فيه، لقوله صلى الله عليه وسلم: "فقد جاءهم ما يشغلهم عن حالهم، فحزن موت وليهم اقتضى أن يتكلف لهم عيشهم"، وقد كانت للعرب مشاركات ومواصلات في باب الأطعمة باختلاف أسباب وفي حالات جماعها-انتهى.(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، جلد:5، ص: 480)
قرر مجلس المجمع بإجماع الموافقة علي قرار مجلس هيئة كبار العلماء في المملكة العربية السعودية رقم (51) وتاريخ 1339/4/4ھ. من جواز التأمين التعاوني بدلا عن التأمين التجاري المحرم والمنوه عنه آنفاّ للأدلة الآتية:
الأول: أن التأمين التعاوني من عقود التبرع التي يقصد بها أصالة التعاون علی تفتيت الأخطار والإشتراك في تحمل المسئولية عند نزول الكوارث وذالك عن طريق إسهام أشخاص بمبالغ نقدية تخصص لتعويض من يصيبه الضرر فجماعة التأمين التعاوني لايستهدفون تجارة ولا ربحّا من أموال غيرهم وإنما يقصدون توزيع الأخطار بينهم والتعاون علی تحمل الضرر. (مجلة مجمع الفقه الإسلامي، التأمين وإعادة التأمين، ج:2، ص: 476)
وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين. (ردالمحتار علی الدرالمختار، جلد:6، ص:758)
(قوله عقل وبلوغ) فلا تجب على مجنون وصبي لأنها عبادة محضة وليسا مخاطبين بها. (ردالمحتار علی الدر المختار،كتاب الزكوة،جلد:2، ص: 258)