بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
جہاز کے عملے کا ڈیوٹی فری سامان خریدنا
سوال
میں ایک سی مین ہوں ہمارا جہاز اسرائیل آیا ہوا ہے۔ سی مین حضرات کہ لیے دنیا بھر میں پورٹ پر کچھ چیزیں ڈیوٹی فری ہوتی ہیں، جو صرف بحری جہاز کا عملہ ہی خرید سکتا ہے، برائے کرم ہمارے لیے یہ ڈیوٹی فری چیز لینا حلال ہے یا حرام؟ کیونکہ اس سے تو ٹیکس اسرائیل کی حکومت کو نہیں جائےگا۔
جواب
واضح رہے کہ بیع، بائع اور مشتری کی باہمی رضامندی کے ساتھ اموال کے تبادلے کانام ہے، چنانچہ دونوں باہمی رضامندی کے ساتھ جس چیز کی جتنی قیمت طے کرنا چاہیں، طے کرسکتے ہیں۔
صورتِ مسؤلہ کے مطابق جب سائل بحری جہاز کے عملے کے طور پر کسی بھی ملک میں موجود ہو، تو ڈیوٹی فری اشیاء خریدنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ کہ ان اشیاء کا استعمال حلال ہو اور ان کی خریداری کے دوران کوئی شرعی یا قانونی خلاف ورزی نہ کی جاتی ہو۔
يجوز للمشتري أن يزيد في الثمن ويجوز للبائع أن يحط من الثمن. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، كتاب البيوع، ج:4، ص:83)
هو مبادلة المال بالمال بالتراضي بطريق الإكتساب. ( فتح القدير، كتاب البيوع، ج:6، ص:246)