بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مدرسےکے فنڈ سے مہتمم کے لیے مراعات اور سہولیات کا حکم


سوال

کیا مہتممِ مدرسہ کے لیے، جبکہ وہ مکمل طور پر مدرسے کے لیے وقف ہو اور اس کا کوئی دوسرا ذریعہ آمدن نہ ہو، مدرسے کے فنڈ سے علاج، رہائش، سفری سہولیات اور دیگر ضروری اخراجات لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟   

جواب

مہتمم مدرسہ کی حیثیت وکیل کی ہوتی ہے،لوگ مدرسہ اور طلبائے کرام کے نام پرجو صدقات و خیرات دیا کرتے ہیں، اس پر لازم ہے کہ ان کو ضروریات مدرسہ میں ہی استعمال کرے اور ضائع ہونے سے بچائے۔ چنانچہ مہتمم کے لیے مدرسے کے فنڈ سے اپنی ذاتی منفعت یا گھریلو ضروریات کے لیے مراعات (جیسے علاج، رہائش وغیرہ) حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں ہے،تاہم اگر اہل شوری یا دیگر ذمہ داران باہمی مشاورت سے مہتمم کے لیے اس کی مقررہ تنخواہ کے علاوہ عرف کے مطابق دیگر ضروری سہولیات کی ایک محدود مقدارمقررکردیں، تو اس حد تک استعمال کی گنجائش ہوگی۔ اس کے علاوہ دیگر ذاتی اخراجات کے لیے مدرسے کے فنڈ کا استعمال درست نہیں ہے۔

 

ليس للمتولي أن يحمل سراج المسجد إلى بيته وله أن يحمله من البيت إلى المسجد.(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الوقف،الباب الحادی عشر فی المسجد،ج:2،ص:413)

(قوله: اتحد الواقف والجھة) بأن وقف وقفين على المسجد أحدهما على العمارة والآخر إلى إمامه أو مؤذنه والمؤذن لا يستقر لقلة المرسوم للحاكم الدين أن يصرف من فاضل وقف المصالح والعمارة إلى الإمام والمؤذن ستصواب أهل الصلاح من أهل المحلة.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الوقف،ج:6،ص:551)


فتویٰ نمبر : 6642/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور