بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
رمضان میں سحری و اذان و نماز کا وقت
سوال
مثل اول سے قبل ظہر اور مثل ثانی کے بعد عصر کی ادائیگی کا کہا جاتا ہے تاکہ عبادت بالاتفاق درست ہو جائے تو اسی طرح رمضان میں 15 درجے پر روزہ بند کرنے کا اور 18 درجے پر اذان اور نماز کا حکم دیا جائے تو احتیاطی طور پر عبادت صحیح ہو جائے گی اس طرح کرنا کیسا ہے؟
جواب
عبادات میں احتیاط کرنا
مثل اول سے قبل ظہر اور مثل ثانی کے بعد عصر کی ادائیگی کا کہا جاتا ہے تاکہ عبادت بالاتفاق درست ہو جائے تو اسی طرح رمضان میں 18 درجےزيرِ افق پر روزہ بند کرنے کا اور 15 درجے پر اذان اور نماز کا حکم دیا جائے تو احتیاطی طور پر عبادت صحیح ہو جائے گی اس طرح کرنا کیسا ہے؟
واضح رہے کہ تمام عبادات اتفاقی اوقات میں ادا کرنا ایک جائز، مستحسن اوراحتیاط پر مبنی امر ہے تاہم کسی اور کو احتیاط پر عمل کرنے کا پابند نہیں بنایا جاسکتا۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص صبحِ صادق کے وقت میں اختلاف کی بنا پر احتیاطاً سورج کے 18 درجے زیرِ افق ہونے پرسحری بند کر دیتا ہے اور فجر کی نماز 15 درجے زیرِ افق ہونے پر پڑھتا ہے تو اس کی نمازاور روزہ بالاتفاق درست ہوگا۔ تاہم 18 درجے کے قول کو ماہرین فن اور اہل افتاء نے ترجیح دی ہے اس لیے اس کے مطابق عمل کو احتیاط کے خلاف قرار دے کر خواہ مخواہ لوگوں کو 18 درجے اور 15درجے دونوں کی رعایت کا حکم دینے کی ضرورت نہیں۔
وأبو حنيفة رحمه الله تعالى يقول: الأخذ بالاحتياط في العبادات أصل. (المبسوط للسرخسي،كتاب الصلاة،ج:1،ص:246)
قال أصحابنا رحمهم الله: وقت الصوم من حين يطلع الفجر الثاني، وهو الفجر المستطير المنتشر في الأفق إلى وقت غروب الشمس خروج وقت الصوم...وقد اختلف المشايخ فيه، بعضهم قالوا: العبرة لأوله، وبعضهم قالوا: العبرة لاستطارته، قال الشيخ الإمام شمس الأئمة الحلواني رحمه الله: القول الأول أحوط، والثاني أوسع. (المحيط البرهاني،كتاب الصوم،ج:2،ص:373)