بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

باہمی تعاون کے لیے یونین قائم کرنا


سوال

 کیا علماء، قراء، مدرسین اور بیوہ مسکینوں کے مابین باہمی تعاون اور کفالت کے لیے تکافل (الکفالہ)کی بنیاد پر ایک ایسا یونین قائم کرنا شرعاً جائز ہے، جس میں شرکاء اپنی رضامندی سے رقم تبرعاً ادا کریں اور اسے وقف پول کی صورت دے دی جائے؟

 

جواب

واضح رہے کہ نادار اور غریب لوگوں کی کفالت کے لیے کسی یونین یا ٹرسٹ کا قیام ایک مستحسن امر ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ یونین اور ٹرسٹ شرعی اصولوں پرکام کرے، اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس کا قیام وقف کی بنیاد پر ہو، ابتدا میں کچھ افراد اپنی خوشی سے کچھ رقم یونین کے نام وقف کریں جس سے وقف فنڈ قائم ہو جائے گااور ممبران اس فنڈ کو تبرعا رقم دیا کریں، یہ رقم وقف فنڈ کی ملکیت شمار ہو گی پھربوقت ضرورت اس چندہ کی رقم سے خرچ کیا جائے جب کہ اصل وقف شدہ فنڈ کومحفوظ رکھا جائے گا۔ ادارےکے منتظمین اس وقف کے متولی ہوں گے اور وقف مال چونکہ متولی کے ہاتھ میں امانت ہوتا ہے اس لیے وہ ان پیسوں کو صرف وقف کی شرائط کے مطابق خرچ کریں گے۔

 

عن عبد الله بن جعفر، قال: لما جاء نعي جعفر، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اصنعوا لآل جعفر طعاما، فقد أتاهم ما يشغلهم" أو "أمر يشغلهم". (سنن ابن ماجه،ج:2،ص:537)

والحديث أصل في المشاركات عند الحاجة، وصححه الترمذي. والسنة فيه أن يصنع في اليوم الذي مات فيه، لقوله صلى الله عليه وسلم: "فقد جاءهم ما يشغلهم عن حالهم، فحزن موت وليهم اقتضى أن يتكلف لهم عيشهم"، وقد كانت للعرب مشاركات ومواصلات في باب الأطعمة باختلاف أسباب وفي حالات جماعها-انتهى. (مرقاةالمفاتيح شرح المشكاةالمصابيح،ج:5،ص:480)

من جواز التأمين التعاونى بدلًا عن التأمين التجاري المحرم والمنوه عنه آنفًا للأدلة الآتية:الأول: أن التأمين التعاونى من عقود التبرع التي يقصد بها أصالة التعاون على تفتيت الأخطار والاشتراك في تحمل المسئولية عند نزول الكوارث وذلك عن طريق إسهام أشخاص بمبالغ نقدية تخصص لتعويض من يصيبه الضرر فجماعة التأمين التعاونى لا يستهدفون تجارة ولا ربحاً من أموال غيرهم وإنما يقصدون توزيع الأخطار بينهم والتعاون على تحمل الضرر. (مجلة مجمع الفقه الإسلامي،التأمين و أعادةالتأمين،ج:2،ص:476)

وأما الناظر والكاتب والجابي، فإن عملوا زمن العمارة، فلهم أجرة عملهم لا المشروط...بل كل من عمل في التعمير من المستحقين له أجرة عمله... ويدخل في وقف المصالح قيم. (ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الوقف،ج:4،ص:370)


فتویٰ نمبر : 6653/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور