بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
گاؤں میں جمعہ کی نماز
سوال
ایک گاؤں ہے اسمیں گورنمنٹ پرائمری سکول ہے اور ڈسپینسری ہے جو کہ گورنمنٹ کی غفلت کی وجہ سے بند ہے لیکن اس گاؤں میں پرائیویٹ ڈاکٹرز آتے ہیں بیٹھتے ہیں علاج کرتے ہیں، دکانیں ہیں، اور اس گاؤں میں 250 گھر ہیں، اور آبادی تقریباً ہزار افراد سے زیادہ ہے، تین مساجد ہیں، اور جہاں جمعہ کی نماز پڑھائی جاتی ہے وہ چار کلومیٹر دور ہے وہاں ضعفاء کو جانے میں تکلیف ہوتی ہےتو کیا اس گاؤں کی مرکزی مسجد میں جمعہ پڑھایا جاسکتا ہے؟
جواب
فقہ حنفی کی رو سے جمعہ کا انعقاد صرف شہر، قصبہ یا کسی بڑے گاؤں میں کیا جاسکتا ہے۔ بڑے گاؤں (قریہ کبیرہ) کی علامات مختلف زمانوں میں فقہائے کرام نے اپنے عرف کے مطابق بیان کی ہیں۔ موجودہ دور میں دو، ڈھائی ہزارافراد کی آبادی پر مشتمل گاؤں جس میں ضروریات زندگی میسر ہوں اس کو بڑے گاؤں کی حیثیت حاصل ہے۔
صورت مسؤلہ میں مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق اس گاؤں کو بڑا گاؤں نہیں کہا جاسکتا، لہذا اس گاؤں میں جمعہ کا انعقاد جائز نہ ہوگا۔
لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولاتجوز في القرى. (الهداية، كتاب الصلوة، باب الجمعة، جلد:1، ص:1/82)