بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
بائع کا مشتری کوانعام دینا
سوال
میں دوائی فروخت کرتا ہوں جس کی قیمت مارکیٹ ریٹ کے مطابق 850 روپے ہوتی ہے اور میں بھی اسی قیمت (850) پر فروخت کرتا ہوں، اور جو شخص دوائی خریدتا ہے اس کواس کےاختیار پر میں ایک قرعہ کا ٹکٹ دیتا ہوں قرعہ میں ایک موٹرکار، ایک موٹر سائیکل اور پانچ پانچ ہزار کے تین کیش انعامات ہوتے ہیں کیاشرعاً یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ بائع اور مشتری جس چیز پر عقد كریں وہی مبیع ہوتا ہے، تاہم بائع گاہک کو راغب کرنے کے لئے اپنی طرف سے مبیع میں کچھ اضافہ بھی کرسکتا ہے اوراگر مشتری زیادہ ہوں تواس اضافہ کو قرعہ کے ذریعے بھی تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق بائع کا مشتری کو دوائی خریدنے پر انعام دینا اور اس کو قرعہ کے ذریعے تقسیم کرنا اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ بائع انعام کی وجہ سے مبیع کی قیمت میں اضافہ نہ کرے۔
ويجوز للمشتري أن يزيد للبائع في الثمن ويجوز للبائع أن يزيد للمشتري في المبيع. (الهداية شرح البداية المبتدي،كتاب البيوع،ج:3،ص:52)
ذكر في "الأجناس" القرعة ثلاث: الأولى لإثبات حق وإبطال حق آخر وإنها باطلة، كمن أعتق أحد عبديه بغير عينه، ثم تعين بالقرعة، والأخرى لطيبة النفس، وإنها جائزة كما يقرع بين النساء ليسافر بها، والثالث لإثبات حق واحد وفي مقابلة مسألة ليقر بها كل حق كالقسمة وهو جائز والله أعلم. (المحيط البرهاني،كتاب القسمة، الفصل الخامس في الرجوع عن القسمة واستعمال القرعة فيها، ج:7، ص:356)