بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

حرم میں مقتدی کاامام سےآگےہونا


سوال

حرم مکہ کےاندرامام برآمدے میں ہوتاہےاورمقتدی حضرات مطاف کےاندرامام کےآگےہوتےہیں تواس صورت میں ان نمازیوں کاکیابنےگاجوامام کےآگےكهڑے ہوئےہیں۔آیاان کی نمازہوگی یانہیں؟اگر نہیں ہوگی تواتنےہزاروں کی تعداد میں نمازیوں کی نمازکا کیا بنے گا؟

جواب

واضح رہےکہ مسجدحرام میں امام چارجہتوں میں سےجس جہت میں کھڑےہوکرنماز پڑھارہا ہو، اسی جہت میں اگرکوئی مقتدی امام سےاتنی مقدارآگےبڑھ جائے کہ اس کی ایڑھی امام کی ایڑھی سےآگے ہوجائےاوروہ امام کی بہ نسبت کعبہ كوزیادہ قریب ہوجائےتوایسی صورت میں مقتدی کی نمازفاسدہوجاتی ہے۔اوروہ مقتدی جو امام کی جہت میں نہ ہو، بلکہ دوسری جہات کی طرف ہو،ان میں سےاگرکوئی مقتدی امام کی بہ نسبت کعبہ سےزیادہ قریب ہوتواس مقتدی کی نماز صحیح ہے۔

آج کل ائمہ،حرمِ مکی میں بیت اللہ سےکافی فاصلےپربرآمدے میں مخصوص جگہ میں نمازکی امامت کرتےہیں،اورلوگ ازدحام وغیرہ کی وجہ سےامام کےآگے بھی نمازادا کرتےہیں،مسجدِ حرام میں نمازاداکرنےوالےکوچاہیےکہ وہ اس بات کا اہتمام کرے کہ جس جہت میں امام کھڑاہواس جہت میں امام سےآگے نہ ہو،ورنہ نمازادانہیں ہوگی،ازدحام وغیرہ کی وجہ سےامام کی جہت میں آگے بڑھ کرنمازاداکرنےسےنمازادانہیں ہوگی۔

 

وإذاصلی الإمام في المسجد الحرام تحلق الناس حول الکعبة وصلواصلاة الإمام، فمن کان منھم أقرب إلى الکعبة من الإمام جازت صلاته إذا لم یکن في جانب الإمام،کذا في الھدایة.(الفتاوى الھندية،ومما یتصل بذلك الصلاة في الکعبة،ج:1،ص:122)

 (قوله: إن لم یکن في جانبه) أماإذاکان أقرب إلیها الإمام فإن کان متقدماًعلى الإمام بحذائه فیکون ظهره إلى وجه الإمام ...أو کان على یمین الإمام أو یساره متقدماً علیه من تلك الجهة ویکون ظهره إلى الصف الأول الذي مع الإمام ووجهه إلى الکعبة، فلایصح اقتداءه؛لأنه إذاکان متقدمًاعلیه لایکون تابعًا له. (ردالمحتارعلى الدرالمختار،باب الصلاۃ في الكعبة،ج:3،ص:168)


فتویٰ نمبر : 10885/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور