بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

گیس پریشر موٹر لگانے کا حکم


سوال

 ہمارے علاقے میں گیس کی کمی ہے اور  بغیر  مشین کے گیس یاتو بہت ہی کم آتا ہے یا بالکل نہیں آتا ہے۔ مسجد کے لیے گرم پانی کی ضرورت ہے کیوں کہ پانی ٹھنڈا ہوتا ہے ہم نے مسجد میں گرم پانی کے انتظام کے لیے گیس کھینچنےوالی مشین لگائی ہے۔گیس کھینچنےکےلیے گیس موٹر لگانا درست ہے یانہیں؟

جواب

واضح رہے  کہ شریعت مطہرہ کی رو سے کسی بھی شخص کے لئے اموال مشترکہ اور مفاد عامہ کی چیز سے مستفید ہونے کی  اجازت اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ اس سے دوسرے کے حصے میں بغیر اس کی اجازت  کے تصرف لازم نہ آئےیا دوسرے کو ضرر نہ پہنچے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگرگیس کمپریسر اپنے حصہ کاگیس حاصل کرنے کے لیے لگایا جائےاور یہ دوسرے گھروں کے گیس کی فراہمی پر اثرانداز نہ ہوتاہو تو یہ شرعاًجائز ہے ، کیونکہ گیس جتنی بھی استعمال ہو اس کااندراج میٹر میں ہوتے رہنے کی وجہ سے اس کا بل بدستور جمع کیاجا تاہے، نیز اگر کسی علاقہ میں اس قسم کے گیس کمپریسر کااستعمال رواج پاچکاہواور ہر گھر میں استعمال ہوتاہو، تو پھر اپنے جائز حصہ کے گیس کے حصول کے لئے اس کے استعمال میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اگرگیس لوڈشیڈنگ کے دوران کسی وقت اس کمپریسرکے استعمال کی وجہ سے دوسرے گھروں کو گیس کی فراہمی بالکل بندہوجاتی ہوتومفادعامہ کوضررپہنچانے کی وجہ سے ایسا استعمال شرعاً قبیح شمار ہوگا۔

 

يجوز لأحد الشريكين أن يتصرف مستقلا في الملك المشترك بإذن الآخر لكن لا يجوز له أن يتصرف تصرفا مضرا بالشريك.( مجلة الأحكام العدلية، الباب الأول في بيان شركة الملك، الفصل الثاني: في بيان كيفية التصرف في الأعيان المشتركة، الماده:1071، ص:206)

 وكل من شركاء الملك أجنبي في الامتناع عن تصرف مضر في مال صاحبه لعدم تضمنها الوكالة.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الشركة،ج:4، ص:300)


فتویٰ نمبر : 6660/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور