بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طلاق بائن میں مہرلازم ہونےکا حکم


سوال

نکاح کے بعداگرمیاں بیوی کچھ عرصے تک ساتھ رہ چکے ہوں اورپھرشوہرطلاق بائن دےدےتواگرشوہرنےاس مطلقہ بیوی کومہرنہ دیا ہوتوکیااس کےذمےمہرکی ادائیگی لازم ہوگی یانہیں ؟نکاح کے بعداگرمیاں بیوی کچھ عرصے تک ساتھ رہ چکے ہوں اورپھرشوہرطلاق بائن دےدےتواگرشوہرنےاس مطلقہ بیوی کومہرنہ دیا ہوتوکیااس کےذمےمہرکی ادائیگی لازم ہوگی یانہیں؟

جواب

واضح رہےکہ شریعت مطہرہ کی روسےشوہرپرعقدِنکاح سےمہرلازم ہوجاتا ہے چنانچہ اگرکسی نے اپنی بیوی کوطلاق دی اورابھی تک مہرادانہ کی ہو،خواہ طلاق کی کوئی بھی صورت ہوتواگرشوہرنےخلوت صحیحہ کی ہوتوطےشدہ مہرپورادینالازم ہوگا۔

صورت مسئولہ کےمطابق اگرکسی نےبیوی کوطلاق بائن دی ہواورمہرادا نہ کی ہوتواس کے ذمےطےشدہ مہرپورادینالازم ہوگا۔

 

وإذا ‌خلا ‌الرجل ‌بامرأته ‌وليس ‌هناك ‌مانع ‌من ‌الوطء ‌ثم ‌طلقها ‌فلها ‌كمال ‌المهر.(الهداية، ج:1، ص:200)

وفي الصحيح ‌يلزم ‌المهر ‌بمجرد ‌العقد، ويتأكد بالخلوة والموت ولو بدون وطء.( رد المحتار مع الدر المختار، باب نكاح الرقيق ،ج:3، ص:168)


فتویٰ نمبر : 7367/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور