بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

نکاح سے پہلے طلاق کو معلق کرنا


سوال

آج سے تقریباً پانچ سال پہلے کی بات ہے۔کلاس کے دوران میرے استاد صاحب نے مجھ سے ایک سوال کیا کہ اگر آپ کی بیوی ،  آپ سے بغیر پوچھے کہیں چلی جائے تو آپ اس وقت کیا کروگے؟ تو میں نے کلاس کے دوران استاد صاحب کو جواب دیا کہ اس کو طلاق دے دونگا۔ اور میں نے ابھی تک شادی نہیں کى ہے اور اُس وقت بھی یعنی آج سے تقریباً پانچ سال پہلے بھی میں شادی شدہ نہیں تھا۔ تو کیا شادی کرنے کے بعد اگر میری بیوی مجھ سے بغیر پوچھے کہیں چلی جائے تو کیا اس سے طلاق واقع ہوجائےگی؟

جواب

واضح رہے کہ طلاق واقع ہونے کے لیے ضروری  ہے کہ عورت شوہر  کے نکاح میں ہو یا نکاح کی طرف اضافت کرےچنانچہ اگر نہ تو عورت نکاح میں ہو اور نہ ہی نکاح کی طرف اضافت ہو توطلاق یا  تعلیق  طلاق معتبر نہ ہوگی ۔

صورت مسئولہ میں چونکہ تعلیق طلاق کے وقت سائل کے نکاح میں بیوی موجود نہیں تھی اورنہ ہی اس نے  نکاح کی طرف اضافت کی ہے۔ اس وجہ سے اگر شادی کر لینے کے بعد سائل کی بیوی بغیر پوچھے کہیں چلی جائے توکوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔

 

ولا ‌تصح ‌إضافة ‌الطلاق ‌إلا ‌أن ‌يكون ‌الحالف ‌مالكا ‌أو ‌يضيفه ‌إلى ‌ملك ‌والإضافة ‌إلى ‌سبب ‌الملك ‌كالتزوج ‌كالإضافة ‌إلى ‌الملك ‌فإن ‌قال ‌لأجنبية: ‌إن ‌دخلت ‌الدار ‌فأنت ‌طالق ‌ثم ‌نكحها ‌فدخلت ‌الدار ‌لم ‌تطلق كذا في الكافي.(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، ج:ا، ص: 488)


فتویٰ نمبر : 7373/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور