بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

متعدد عمروں کے بعد ایک ہی حلق یا قصر کرنے والےکے لیےحکم


سوال

ایک شخص نے پانچ عمرے ادا کیے اور قصر تمام عمروں کے آخر میں کیا ،باقی چار عمروں میں نہ قصر کیا نہ حلق ،اب اس شخص پر ایک ہی دم ہے یا چار؟اس کی وضاحت درکار ہے۔

جواب

واضح رہے کہ عمرے کی ادائیگی کے لیے ہر عمرے کاالگ الگ احرام باندھ کرطواف و سعی کرکے احرام کھو لنے کےلیے بال کٹوائے جائیں گے،اگر کوئی شخص عمرے میں سعی  کے بعد  اور حلق یا قصر  سے پہلے دوسرا عمرہ شروع کردے تو اس سے دوسرا عمرہ بھی لازم ہوجائے گا  اور ایک احرام پر دوسرا احرام باندھنے کی وجہ سے دم جمع لازم ہوگا۔

صورت مسئولہ  کے مطابق پہلے عمرے سے حلق یا قصر کیے بغیر یکے بعد دیگرے  چارعمروں  کا احرام باندھا گیا ہے اس لیے  ہر احرام علی الاحرام کی وجہ سے ایک دم جمع لازم ہوگا ،لہٰذا مذکورہ شخص پر  چار  دم لازم ہوں گے، اور آخر میں قصر کرنے سے یہ قصر آخری عمرے کے لیے معتبر ماناجا ئے گا۔

 

ولوطاف وسعى للأولى ولم يبق عليه إلا الحلق فأهل بأخرى لزمته ‌ولا ‌يرفضھا ‌وعليه ‌دم ‌الجمع، وإن حلق للأولى قبل الفراغ من الثانية لزمه دم آخر، ولو بعده لا. (ردالمحتارعلى الدرالمختار،باب الجنایات،ج:3،ص:630)


فتویٰ نمبر : 10886/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور