بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
باپ کااپنی جگہ پربیٹےوغیرہ کوکھانےکی دعوت پربھیجنا
سوال
اگروالد صاحب کوکسی نےدعوتِ طعام پرمدعوکیا ہواوروہ کسی وجہ سے خود نہ جا سکیں،اوراپنے بیٹے سے کہیں کہ:"مجھے فلاں نے کھانے پر بلایا ہے، میں نہیں جا رہا، تم میری جگہ چلے جاؤ۔"اب سوال یہ ہے کہ:1. کیا شرعاً والد کے لیے اپنی جگہ بیٹے کوبھیجنا درست ہے؟2.کیا بیٹے کے لیے ایسی دعوت میں جانا شرعاً درست ہوگا،جب کہ دعوت دراصل والد کے نام پر تھی؟
جواب
واضح رہے کہ عام طورپرکھانے کی دعوت دو قسم کی ہوتی ہیں؛1:دعوت خاص ،جو کہ چند خاص لوگوں کے لیے ہوتی ہے۔2:دعوت عام جیسے ولیمہ وغیرہ جوکہ خاص اورعام سب لوگوں کےلیے ہوتاہے۔ اگر دعوت خاص ہو یعنی خاص افراد کےلیےبنائی گئی ہوتوایسی صورت میں جس شخص کودعوت دی گئی ہووہ اپنی جگہ کسی دوسرےمثلا:اپنے بیٹےوغیرہ کو دعوت میں شرکت کے لیے نہیں بھیج سکتااوراگردعوت عام ہوتواس میں عام عرف کے اعتبارسےفیصلہ کیا جائے گا،تواگرعرف میں دعوت دینے کامطلب یہ سمجھا جاتاہوکہ آپ لوگوں کی طرف سےکسی نے دعوت میں شرکت کرنی ہے تو ایسی صورت میں مدعو شخص کاگھرکےکسی دوسرےفردکو اپنی جگہ دعوت پربھیجناجائزرہے گا۔
صورت مسئولہ کےمطابق اگردعوت خاص ہو جس میں باپ کی شرکت ضروری ہوتواس صورت میں اپنے بیٹے کودعوت پربھیجنا جائز نہیں کیونکہ داعی اس کے بیٹے کی شرکت پرراضی نہیں اوراگردعوت عام ہواورداعی کامقصد بھی یہی ہو کہ آپ لوگوں کی طرف سے کوئی شرکت کرےتواس صورت میں باپ اپنی جگہ پر بیٹے کو بھیج سکتاہےاوربیٹے کے لیے جانااوردعوت میں شرکت کرناشرعاجائز ہوگا۔
قال عبد الله بن عمر : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من دعي فلم يجب فقد عصى الله ورسوله، ومن دخل على غير دعوة دخل سارقا، وخرج مغيرا".(سنن أبي داود،باب ما جاء في إجابة الدعوة، رقم الحديث:3741، ج:3، ص:395)
العرف إنما يعتبر فيما لا نص بخلافه.( المبسوط للسرخسي،ج:14، ص:136)