بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مسجد میں چندے کی ممانعت کا بورڈ لگانا


سوال

مسجد میں '' چندہ کا اعلان کرنا منع ہے ''  کا بورڈ لگانے کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی دینی ضرورت، مثلاً مسجد، مدرسہ یا کسی اور دینی مقصد کے لیے چندے کی ضرورت ہو تو مسجد میں چندہ جمع کرنا جائز ہے۔ مختلف مواقع پر نبی کریم ﷺ کی طرف سے چندے کا اعلان منقول ہے، بلکہ بعض مواقع پر (جیسے غزوۂ تبوک اور ایک ضرورت مند قبیلے کے وفد کی آمد کے موقع پر) خود نبی کریم ﷺ کا مسجد میں امداد جمع کرنا بھی ثابت ہے۔البتہ اس سلسلے میں چندے کی شرائط اور مسجد کے آداب کی مکمل رعایت رکھنا ضروری ہے۔ اگر چندے کی شرائط یا مسجد کے تقاضوں کی رعایت نہ ہو رہی ہو، تو ایسی صورت میں اگر مسجد کا انتظامیہ مسجد میں چندہ جمع کرنے کے دوران آدابِ مسجد کی خلاف ورزی کے اندیشے یا تجربے کی بنا پر مسجد میں چندہ جمع کرنے سے منع کرتے ہوئے بورڈ آویزاں کر دیا ہو، تو یہ اقدام ان کے لیے جائز ہے، لیکن کسی رفاہی  مقصد کے لئے چندے کا بکس لگوانا شریعت کے مزاج کے مخالف ہے۔

 

عن عبد الرحمن بن خباب، قال: شهدت النبي صلى الله عليه وسلم وهو ‌يحث ‌على ‌جيش ‌العسرة فقام عثمان بن عفان فقال: يا رسول الله علي مائة بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله، ثم حض على الجيش فقام عثمان بن عفان فقال: يا رسول الله علي مائتا بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله، ثم حض على الجيش فقام عثمان بن عفان فقال: يا رسول الله علي ثلاث مائة بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله، فأنا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينزل عن المنبر وهو يقول: «ما على عثمان ما عمل بعد هذه، ما على عثمان ما عمل بعد هذه».(سنن الترمذي، ابواب المناقب، باب في مناقب عثمان بن عفان،رقم الحديث:3700،ج:2)

(قوله ‌ويكره ‌التخطي ‌للسؤال إلخ) قال في النهر: والمختار أن السائل إن كان لا يمر بين يدي المصلي ولا يتخطى الرقاب ولا يسأل إلحافا بل لأمر لا بد منه فلا بأس بالسؤال والإعطاء اهـ ومثله في البزازية. وفيها ولا يجوز الإعطاء إذا لم يكونوا على تلك الصفة المذكورة.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب الصلوة، باب الجمعة، مطلب فی الصدقة علی سوال المسجد، ج :3، ص:42)


فتویٰ نمبر : 6611/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور