بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

سی سی ٹی وی کیمرہ لگانا


سوال

سی سی ٹی وی کیمرہ لگانا کیسا ہے؟جیسے دوکان میں  یا گھر کے دروازے پر یاسکولوں اور مدرسوں وغیرہ میں لگایا جاتا ہے،تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

اسلام میں تصویر کشی حرام و ناجائز ہے، احادیث میں اس پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لیکن جہاں چوری ڈکیتی، خیانت، جان و مال کے تلف و ضیاع کا خطرہ ہو تو وہاں حفاظتی نقطہ نظر سے سی سی ٹی وی کیمرہ نصب کرنے کی اجازت ہے۔

دوكان یاگھر کے دروازے پر حفاظتی نقطہ نظر سے سی سی ٹی وی کیمرہ نصب کرنا جائز ہےاسی طرح اسکولوں ،اور مدرسوں میں طلبہ کی تعلیم و تربیت کے لئے ان کی دیکھ بھال اور نگرانی ایک اہم کام ہے؛ اس لئے اگر انہیں لڑائی جھگڑے سے بچانے، غلط کاموں اور برائیوں سے دور رکھنے اور بہتر و مناسب تربیت میں کیمرہ لگانا مفید و معاون ہو تو کیمرہ لگانا جائز ہے۔

 

الضرورات تبیح المحظورات. ( شرح المجلة، المادۃ:21، ص:29 )

يتحمل الضرر الخاص لدفع ضرر عام...الضرر الأشد يزال بالضرر الأخف...يختار أهون الشرين. (شرح المجلة، المادة:27، ج:1، ص:41 )

ويستثنى ‌من ‌النهي ‌عن ‌التجسس ‌ما ‌لو ‌تعين ‌طريقا ‌إلى ‌إنقاذ ‌نفس ‌من ‌الهلاك ‌مثلا ‌كأن ‌يخبر ‌ثقة ‌بأن ‌فلانا ‌خلا ‌بشخص ‌ليقتله ‌ظلما ‌أو ‌بامرأة ‌ليزني ‌بها ‌فيشرع ‌في ‌هذه ‌الصورة ‌التجسس ‌والبحث عن ذلك حذرا من فوات استدراكه نقله النووي عن الأحكام السلطانية للماوردي واستجاده وأن كلامه ليس للمحتسب أن يبحث عما لم يظهر من المحرمات ولو غلب على الظن استسرار أهلها بها إلا هذه الصورة. ( فتح الباري، قوله باب ما ينهى عن التحاسد والتداب، ج:10، ص:482 )


فتویٰ نمبر : 6603/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور