بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

فیصلے سے انکار کی صورت میں ثالثین فریقین سے جمع شدہ پیسے لینا


سوال

بعض علاقوں میں رائج ثالثانِ جرگہ کے طریقۂ کار کے مطابق فریقین ثالثوں کے پاس ایک متعین رقم (مثلاً دو لاکھ یا پانچ لاکھ روپے) بطورِ ضمانت جمع کرواتے ہیں۔ شرط یہ ہوتی ہے کہ اگر فیصلہ صادر ہونے کے بعد کوئی فریق اس فیصلے کو قبول نہ کرے تو یہ رقم ثالثوں کی ملکیت بن جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ شرعاً ثالثوں کے لیے اس رقم کو لینا اور استعمال کرنا کیسا ہے؟

 

جواب

واضح رہے کہ اگرفریقین فیصلہ  سے پہلے   پورے اختیارات جرگہ والوں(ثالثوں ) کو دیں اور کچھ رقم باہمی فریقین ثالثان کے پاس بطور ضمانت رکھیں اور یہ کہہ دیں کہ ہم آپ کے فیصلہ کو تسلیم کریں گے اوراگر ہم میں سے کسی فریق نے فیصلہ سے انکار کیا تو جو رقم ان  سے بطور ضمانت لی گئی ہے وہ بطور جرمانہ لی جائے گی، تو اگر ثالثوں نے شریعت کے مطابق فیصلہ کیا اور فریقین میں سے کسی نے فیصلہ نہ مانا تو ثالثوں کے لئےاس کی اجازت ہے کہ وہ اس فریق کے فیصلے ماننے تک اس رقم کو بطور جرمانہ ضبط کریں، یا ظالم سے لے کر مظلوم کو حوالہ کر دیں  ،اور  اگر منکر فریق فیصلہ  سے انکاری رہا  تو وہ رقم  اس سے لے کر مفاد عامہ میں خرچ  کی جاسکتی ہے خود ثالثان کے لئے اس رقم کو ذاتی اخراجات میں استعمال کی گنجائش نہیں تاہم اگر ثالثان کے  باہمی مشاورت سے اجرت مقرر ہو تو تحکیم پر اجرت لی جاسکتی ہے۔

 

  روي ‌عن ‌أبي ‌يوسف ‌أن ‌التعزير ‌من ‌السلطان ‌بأخذ ‌المال ‌جائز كذا في الظهيرية وفي الخلاصة سمعت عن ثقة أن التعزير بأخذ المال إن رأى القاضي ذلك أو الوالي جاز ومن جملة ذلك رجل لا يحضر الجماعة يجوز تعزيره بأخذ المال. وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى. )البحر الرائق، ج:5، ص:68)

وإذا حكم رجلان رجلا فحكم بينهما ورضيا بحكمه جاز؛ لأن لهما ولاية على أنفسهما فصح تحكيمهما، وينفذ حكمه عليهما، وهذا إذا كان المحكم بصفة الحاكم؛ لأنه بمنزلة القاضي فيما بينهما۔ (البناية شرح الهداية 9/ 58)


فتویٰ نمبر : 6610/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور