بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

زکوۃ کی رقم سے قبرستان کی زمین خریدنا


سوال

کیا زکوۃ کے پیسے سے قبرستان کی زمین خرید سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ (مثلاً: نذر، کفارہ، فدیہ اور صدقہ فطر) کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے کسی مستحقِ زکوۃ شخص کو بغیر عوض کے مالک بناکر دیا جائے بصورت دیگر زکوۃ ادا نہ ہو گی۔

لہذا صورت مسئولہ میں زکوۃ کی رقم  سےقبرستان کے لیے زمین خریدنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ اس میں تملیک نہیں پائی جاتی  جب کہ زکوۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک کا پایا جانا ضروری ہے۔

 

ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه،ولايجوزأن يكفن بها ميت،ولايقضى بهادين الميت كذافي التبيين.(الفتاوى الهندية،کتاب الزکاۃ،الباب السابع في المصارف، ج: 1، ص: 188 )


فتویٰ نمبر : 10872/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور