بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مدرسہ کی سوکھی روٹی بیچنا


سوال

میں ایک مدرسہ میں شعبہ حفظ و ناظرہ کا مدرس ہوں اور وہیں رہائش پذیر ہوں۔ میری صورتحال درج ذیل ہے: میں مدرسہ سے تدریس کے بدلے باقاعدہ تنخواہ وصول کرتا ہوں۔ مدرسہ میں 20 طلباء مقیم ہیں جو گھروں سے کھانا (روٹی) جمع کرکے لاتے ہیں۔ اس جمع شدہ کھانے میں سے جو زائد (بچی ہوئی) روٹی ہوتی ہے، میں اسے سکھا کر بازار میں فروخت کر دیتا ہوں اور حاصل ہونے والی رقم طلباء کی ضروریات پر ہی خرچ کرتا ہوں، كيا ميرے لئے یہ جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ آدمی کو جب کوئی چیز صدقہ کے طور پر ملے تو وہ اس کا مالک بن جاتا ہے، اور آدمی اپنے مملوکہ مال میں ہر قسم کا جائز تصرف کرسکتا ہے، نیز جس طرح آدمی خود اپنے مملوکہ مال میں تصرف کرسکتا ہےاسی طرح اس میں تصرف کے لئے وکیل بھی بنا سکتا ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق  طلباء کو وظیفے میں دی گئی روٹی ان طلباء کی ملکیت ہوتی ہے وہ جیسا چاہیں اس میں تصرف کرسکتے ہیں چنانچہ استاد یا مہتمم ان کی اجازت سے سوکھی روٹی بیچ کر ان طلباء کے مفاد میں خرچ کرسکتا ہے، اور اگر طلباء نابالغ ہوں تو ان کے ولی سے اجازت لینا ضروری ہوگا۔

كل ‌يتصرف ‌في ‌ملكه كيفما شاء. لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه. (مجلة الأحكام العدلية، مادة:1192،جلد:3،ص:201)

‌ثم ‌قبض ‌الوكيل ‌في ‌حق ‌الموكل كقبضه بنفسه. (المبسوط للسرخسي، جلد:19،ص:147)


فتویٰ نمبر : 6631/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور