بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

گاڑی میں شرکت کا ایک فاسد معاملہ اور اس کا متبادل


سوال

زید کی گاڑی ہے جس کی قیمت 50 لاکھ روپے ہے ۔زید نے یہ گاڑی بکر کو شراکت پر دی ( اِس طور پر ) کہ تم یہ گاڑی ڈرائیونگ  پر چلاؤ اور مجھے اس کی کُل قیمت ( یعنی 50 لاکھ روپے ) کما کر دے دو ، جب تم نے مجھے گاڑی کی موجودہ کُل قیمت ادا کر دے دی تب یہ گاڑی میرے اور تمہارے درمیان مشترک ہوگی۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ : 1) اِس معاملہ کاتعلق کس عقد کے ساتھ ہے ، کیا یہ شرکت ہے یا اِجارہ وغیرہ ؟ 2) کیا یہ معاملہ شرعاً درست ہے؟ 3) اگر درست نہیں تو اس کی جائز صورت بتاکر ممنون  فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ معلوم منافع کے عوض معلوم اجرت لینا اجارہ کہلاتا ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی چیز کا مالک ہو اور دوسرا شخص ملکیت میں اس کے ساتھ شریک ہونا چاہے تو کچھ حصہ خرید کر شریک بن سکتا ہے۔

صورت مسئولہ میں جب ایک شخص  نے دوسرے کو گاڑی چلانے کے لیے دی، تو اگر گاڑی کے مالک نے ڈرائیور کو گاڑی کرایہ پر دی ہو تو کرایہ طے نہ ہونے کی وجہ سےیہ معاملہ فاسد ہےاور اگر ڈرائیور کو تنخواہ پر رکھا ہوتو اس کی تنخواہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ فاسد ہے، نیز چلانے والے کو یہ کہنا کہ گاڑی چلا کر مجھے موجودہ کل قیمت دو اور میں تمہیں اس گاڑی میں شریک کردوں گا، شرعا یہ معاملہ کسی جائز عقد کے تحت داخل نہیں، اس لیے طرفین پر اس معاملہ  کو فسخ کرنا لازم ہے۔ اس کے بجائے عقد  کے تین درست طریقے ہو سکتے ہیں:

1)گاڑی کا مالک چلانے والے کو ماہانہ تنخواہ پر رکھے اور اس صورت میں گاڑی کی پوری آمدنی مالک کی ہوگی، اور چلانے والے کو ماہانہ تنخواہ ملتی رہے گی۔

2)مالک اپنی گاڑی چلانے والے کو متعین کرایہ پر دے۔اس صورت میں مالک کو کرایہ ملتا رہےگا اور گاڑی سے حاصل ہونے والی پوری آمدنی چلانے والے کی ہوگی۔

3)مالک گاڑی کا  ایک حصہ چلانے والے پر بیچ دے، اس حصے کی قیمت اور ادائیگی کی مدت متعین کی جائے جو دوسرے کے ذمے ادا کرنا لازم ہوگا۔ اس سے دونوں گاڑی کی ملکیت میں شریک بن جائیں گے چنانچہ نفع میں دونوں کا برابر حصہ ہوگا۔ اور پھر چلانے والا مفت میں بھی چلا سکتا ہے اور تنخواہ پر بھی۔

 

تفسد الاجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكلما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل، وكشرط طعام عبد وعلف دابة.(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، ج:9،ص:64)

وفي التتارخانية عن التتمة: سئل والدي عن أحد شريكي عنان اشترى بما في يده من المال عروضا ثم قال لأجنبي أشركتك في نصيبي مما اشتريت قال يصير شريكا له شركة ملك.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الشركة، فصل في الشركة الفاسدة، ج:4، ص:329)


فتویٰ نمبر : 4063/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور