بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مسجد سے باہر سڑک پر کھڑے ہوکر امامِ مسجد کی اقتداء میں نماز پڑھنا


سوال

ہم جمعہ کی نماز کے لئے ایک مسجد جاتے ہیں، جہاں لوگوں کا بہت ہجوم ہوتا ہے، مسجد کے باہر راستوں میں لوگ کھڑے ہوتے ہیں، اور مسجد کے مین گیٹ کےسامنے سڑک ہےجس پرعام طور سے گاڑیاں بھی گزرتی ہیں، لیکن جمعہ کی دن اس جگہ پربھی لوگ کھڑے ہوتےہیں اورنمازکے وقت وہ گاڑیاں بند ہوتی ہیں، اب کیا اس سڑک پر یا اس کے دوسرے جانب کھڑے ہوکرنمازپڑھنے والوں کی نمازاس مسجد کےامام کے ساتھ پڑھنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نماز میں اقتداء کی صحت کےلیے اصل شرط امام اورمقتدی کے درمیان حقیقی یا حکمی اتحادِ مکان کا پایا جانا ہے۔ لہٰذا اگرامام اورمقتدی کے درمیان ایسا فاصلہ یا حائل ہو جوعام طور پرمکان کے اختلاف کا باعث بنے اور جس سے امام کے احوال معلوم کرنے میں اشتباہ پیدا ہو جائے تواس صورت میں اقتداء صحیح نہیں ہے۔ تاہم اگر صفیں متصل ہوں تو امام کی اقتداء درست ہوگی ۔

صورت مسئولہ کے مطابق جب کسی مسجد میں لوگ زیادہ ہو نے کے باعث بعض لوگ مسجد سے باہر سڑک پر کھڑے ہوں یا اس کے دوسرے جانب کھڑے ہوں تو اگر باہرکی صفوں کا مسجد کی صفوں کے ساتھ اتصال ہو، تو ان کا اس مسجد کے امام کی اقتدا میں نماز پڑھنا درست ہوگا ورنہ اتصال نہ ہونے کی صورت میں اقتدا درست نہیں۔

 

ويجوز الاقتداء لجار المسجد بإمام المسجد ،وهو في بيته إذا لم يكن بينه وبين المسجد طريق عام ،وإن كان طريقا عاما ولكن سدته الصفوف، جاز الاقتداء لمن في بيته  بإمام المسجد۔(الفتاوى التاتارخانية، كتاب الصلوة، بيان ما يمنع صحة الإقتداء ،ج:2، ص:267)

ومنها: اتحاد مكان الإمام والمأموم، ولأن الاقتداء يقتضي التبعية في الصلاة، والمكان من لوازم الصلاة فيقتضي التبعية في المكان ضرورة، وعند اختلاف المكان تنعدم التبعية في المكان فتنعدم التبعية في الصلاة لانعدام لازمها؛ ولأن اختلاف المكان يوجب خفاء حال الإمام على المقتدي فتتعذر عليه المتابعة التي هي معنى الاقتداء، حتى أنه لو كان بينهما طريق عام يمر فيه الناس أو نهر عظيم لا يصح الاقتداء؛ لأن ذلك يوجب اختلاف المكانين عرفا مع اختلافهما حقيقة فيمنع صحة الاقتداء... فإن كانت الصفوف متصلة على الطريق جاز الاقتداء؛ لأن اتصال الصفوف أخرجه من أن يكون ممر الناس فلم يبق طريقا بل صار مصلى في حق هذه الصلاة، وكذلك إن كان على النهر جسر وعليه صف متصل لما قلنا، ولو كان بينهما حائط، ذكر في الأصل أنه يجزئه. (بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل شرائط أركان الصلاة، ج:1، ص:628)


فتویٰ نمبر : 10872/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور