بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
فرضيت حج كے ليے صاحب استطاعت ہونے كا اعتبار
سوال
اگر زید کے پاس 25 لاکھ روپے ہوں اور اس نے یہ پیسے شادی کیلئے یا اپنا ذاتی گھر بنانے کیلئے جمع کیے ہوں تو کیا ان پیسوں کی وجہ سے زید پر حج فرض ہوتا یا نہیں ؟ نیز اگر ابھی حج فرض ہو گیا تو کیا جب یہ شادی یا گھر وغیرہ میں یہ پیسے لگا دے اور یہ پیسے ختم ہو جائیں تو تب بھی اس پر حج فرض رہے گا یا پیسے ختم ہونے سے حج ساقط ہو جائے گا؟
جواب
واضح رہے کہ حج کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ آدمی صاحب استطاعت ہو یعنی اس کے پاس اتنی مقدار میں مال موجود ہو کہ جو سفر حج اور اس دوران اہل وعیال کے خرچہ کے لیےکافی ہو سکےاور اس پر اتنا قرض بھی نہ ہو جو حج کی ادائیگی سے مانع ہو۔نیز موجودہ دور میں لوگ حکومت یا پرائیویٹ کمپنیوں کی زیر نگرانی حج کے لیے جاتے ہیں وہ انتظامی اُمور کے تحت حج کے مہینوں سے پہلے لوگوں کو اپنے نام درج کرنے کے لیے تاریخ مقر رکرتے ہیں،اس مقررہ تاریخ کے بعد لوگوں کے نام درج نہیں کیے جاتے ،لہذا حج کی استطاعت میں اُن دنوں کا اعتبار ہوگا جن دنوں میں حج کے لیے داخلہ کیا جاتا ہو۔
صورتِ مسئولہ میں زید اگر حج کے داخلوں کے ایام میں 25 لاکھ روپے کا مالک ہوا ہو جو کہ عام طور پرآج کل (2025میں) سفر حج اور اہل عیال کے لیے کافی ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود ا س نے حج داخلہ کے لیے درخواست جمع نہیں کی تو ایسی صورت میں اس کے ذمے حج فرض ہوگا اور بعد میں استطاعت نہ ہونے کے باوجود اس کا ذمہ ساقط نہ ہوگا البتہ اگر حج کے لیے درخواست جمع کی لیکن وہ منظور نہ ہوئی اور کوئی متبادل صورت بھی نہ بن سکی اور بعد میں وہ رقم ضروریات میں خرچ ہوگئی تو ایسی صورت میں آئندہ کے لیے صاحب استطاعت ہونے تک اس پر حج فرض نہ ہوگا ۔
شروط الوجوب وهي التي إذا وجدت بتمامها وجب الحج وإلا فلا وهي سبعة: الإسلام، والعلم بالوجوب لمن في دار الحرب والبلوغ والعقل والحرية والاستطاعة والوقت أي القدرة في أشهر الحج أو في وقت خروج أهل بلده على ما يأتي.( رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحج، ج:2 ص:458)
لو ملك ما به الاستطاعة…….لو ملكه مسلما فلم يحج حتى افتقر حيث يتقرر الحج في ذمته دينا عليه.(فتح القدير، كتاب الحج، ج:2 ص: 409)
وتفسير ملك الزاد والراحلة أن يكون له مال فاضل عن حاجته، وهو ما سوى مسكنه ولبسه وخدمه، وأثاث بيته قدر ما يبلغه إلى مكة ذاهبا وجائيا راكبا لا ماشيا وسوى ما يقضي به ديونه ويمسك لنفقة عياله، ومرمة مسكنه ونحوه إلى وقت انصرافه.(الفتاوى الهندية،كتاب المناسك،الباب الأول فى تفسير الحج وفرضيته، ج:1 ص:217)