بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
مونچھوں کومونڈھنا افضل ہے یا کاٹنا
سوال
مونچھوں کواسترہ سےمونڈھناافضل ہےیاکاٹنا؟نیزکیاحلق کی افضلیت کاقول امام طحاوی رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرناصحیح ہے ؟
جواب
احادیث مبارکہ میں جہاں مونچھوں کےکاٹنےکاحکم دیاگیاہےوہاں"إحفاء،قص ،انہاک،أخذ،تقصيراورجز"كے الفاظ استعمال ہوئےہیں۔ان الفاظ سےیہ اندازہ ہوتاہےکہ مونچھیں قینچی وغیرہ سےاتنی کاٹی جائیں کہ چمڑےکارنگ نظرآئے۔جہاں تک استرےسےحلق کرناہےتواس بارےمیں فقہاےکرام سےمختلف اقوال منقول ہیں،بعض ائمہ کےہاں یہ بدعت کےزمرہ میں داخل ہے۔احناف میں سےامام طحاوی رحمہ اللہ نےاگرچہ حلق کوافضل قراردیا ہے،لیکن علامہ کاسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مونچھوں میں حلق سنت نہیں،کیوں کہ مونچھیں داڑھی کےتابع ہیں،توجس طرح داڑھی میں ایک مشت سےزائد ہونےکی صورت میں قصرسنت ہےاسی طرح مونچھوں میں بھی قصرہی سنت ہوگا۔
وقوله"أخذمن شاربه"إشارة إلى القص،وهوالسنة في الشارب لا الحلق.
وذكرالطحاوي في شرح الآثار:أن السنة فيه الحلق،ونسب ذلك إلى أبي حنيفة،وأبي يوسف ومحمدرحمهم الله،والصحيح أن السنة فيه القص لماذكرناأنه تبع اللحية،والسنة في اللحية القص لاالحلق،كذا في الشارب؛ولأن الحلق يشينه ويصيربمعنى المثلة،ولهذالم يكن سنة في اللحية،بل كان بدعة،فكذافي الشارب.( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ، فصل فيما يجري مجرى الطيب،ج3:ص،225/226)