بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ایک سال تک ہفتے کے مخصوص دنوں کے روزوں کی منت ماننا


سوال

ایک خاتون نے منت مانی کہ اگر اسکے ہاں صحت مند وتندرست اولاد ہوئی تو وہ ایک سال تک سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھے گی مگر اب صورتحال یہ ہے کہ وہ ایسا کرنہیں پا رہی تو کیا درج ذیل میں سے دو صورتحال اس کے لیے ممکن ہیں ایک یہ کہ وہ پورے سال میں جتنے روزے بنتے ہیں انکا فدیہ دے دے ؟دوسرا یہ کہ وہ سارے سال کے روزے ٹوٹل کرکے ان مخصوص دنوں کے علاوہ اکھٹے رکھ لے۔

جواب

نذرِمعین یعنی جس میں کسی معین دن میں نذر کو پورا کرنے کی منت مانی گئی ہو، تو ایسی نذرکو اُسی معین دن میں پورا کرنا واجب ہوتا ہے ،بغیر کسی عذر کے تاخیر کرنا جائز نہیں ہوتا اور اگر کسی شرعی عذر کی وجہ سے معین دن کی منت کا روزہ قضاء ہو گیا، تو بعد میں اس کی قضاء کرنا  لازم ہوگا۔یعنی اس کے بدلے میں کسی اوردن روزہ رکھناہوگا۔نیز اگر بیماری یا کسی اور وجہ سےروزہ رکھنا مشکل ہو تو  صحت یاب ہونے کے بعد روزہ رکھنا لازم ہوگااور اگر مرض دائمی ہو اور صحت یابی کی امید نہ ہو تو  ہر روزے کے بدلےفدیہ ادا کيا جائےگا ۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر خاتون روزے رکھنے پر قادر ہو تو وہ ہر سوموار اور جمعرات کے روزے رکھے گی ،تاہم جس دن کا روزہ رہ جائے تو اس کی قضا کسی بھی دن لاسکتی ہے،ایک سال کے روزے ٹوٹل کرکے اکھٹے نہیں رکھ سکتی۔جہاں تک فدیہ کی بات ہے تو اگر وہ خاتون بیمار ہو اور بیماری ایسی ہو کہ صحت یاب ہونے کی کوئی امید نہ ہو تو پھر ہر روزہ کے بدلے فدیہ دینے کی گنجائش ہے۔

 

‌وإن ‌أضيف ‌إلى ‌وقت ‌معين بأن قال: لله علي أن أصوم غدا يجب عليه صوم الغد وجوبا مضيقا، ليس له رخصة التأخير من غير عذر. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،كتاب الكفارات،فصل في أنواع الكفارات وبيان وجوب كل نوع،ج:5،ص:95)

إذا نذر أن يصوم كل خميس يأتي عليه فأفطر خميسا واحدا فعليه قضاؤه كذا في المحيط.ولو أخر القضاء حتى صار شيخا فانيا أو كان النذر بصيام الأبد فعجز لذلك أو باشتغاله بالمعيشة لكون صناعته شاقة فله أن يفطر ويطعم لكل يوم مسكينا على ما تقدم، وإن لم يقدر على ذلك لعسرته يستغفر الله إنه هو الغفور الرحيم .(الفتاوى الهندية:كتاب الصوم،الباب السادس في النذر،ج1،ص210)

ومقتضاه أن غير الشيخ الفاني ليس له أن يفدي عن صومه في حياته لعدم النص ومثله الصلاة؛ ولعل وجهه أنه مطالب بالقضاء إذا قدر، ولا فدية عليه إلا بتحقيق العجز عنه بالموت فيوصي بها، بخلاف الشيخ الفاني فإنه تحقق عجزه قبل الموت عن أداء الصوم وقضائه فيفدي في حياته اھ. (رد المحتار على الدر المختار،كتاب الصلاة،باب قضاء الفوائت،ج:1،ص:74)


فتویٰ نمبر : 10870/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور