بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
قسطوں پر سامان بیچنے والے کے مال میں زکوۃ
سوال
ایک شخص کپڑے کا کاروبار کرتا ہےاور کپڑے قسطوں پر بیچتا ہے، تو سال گزرنے کے بعد اس شخص کے ذمے زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟ نیزاگرزکوۃ واجب ہوتی ہوتواگر تین سال سےزکوۃ ادا نہ کی ہو اور یہ بھی معلوم نہ ہو کہ شروع میں کتنا مال تھا، تو اب کس طریقے سے زکوۃ ادا کرے گا؟
جواب
واضح رہے کہ جو چیز یں قسطوں پربیچی جاتی ہیں ان کا ثمن بائع کا مشتری کے ذمہ قرض ہوتا ہے،اور قرض کی اس قسم کو فقہاء کرام نے دَین قوی میں شمار کیا ہے،اور دَین قوی کا حکم یہ ہے کہ اس پر زکوۃ واجب ہوتی ہے،لیکن اس کی ادائیگی وصول کرنے کے بعدلازم ہوتی ہے،البتہ قسطوں کی صورت میں جتنا بھی مال حاصل ہوتا رہے اگروہ مقدار نصاب کو پہنچتا ہو اور اس پر سال گزر چکا ہو تو اس پر زکوۃ واجب ہوتی ہے،جہاں تک گزشتہ سالوں کی زکوۃ کا تعلق ہے تو مدت گزرنے سےزکوۃ ساقط نہیں ہوتی بلکہ اس کو ادا کرنا ضروری ہے۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق سال گزرنے کے بعد جتنا مال قسطوں سے حاصل شدہ ہو اگر وہ مقدار نصاب کو پہنچتا ہو تو اس کی زکوۃ دینا واجب ہوگی اور باقی مال جو ابھی تک حاصل نہ ہو ا ہو اور خریداروں کے ذمہ قرض ہو اس پر زکوۃ توواجب ہوگی ،لیکن اس کی ادائیگی اس وقت لازم ہوگی جب اس کو وصول کیا جائےاور گزشتہ سالوں کی زکوۃ کی ادا ئیگی کا طریقہ یہ ہے کہ یہ شخص اندازہ لگائے کہ وہ کب سے صاحب نصاب ہوا ہے پھر اسی دن سے سال شمار کرکے آخر ِسال میں اس کے غالب گمان کےمطابق جتنا مال تھا اس کی زکوۃ ادا کرے، پھر باقی مال اگر بقدر نصاب ہو توغالب گمان کے مطابق دوسرے سال کے آخر میں جتنا مال تھا اس کی بھی زکوۃ ادا کرےاسی طرح تیسرے سال کا بھی حساب لگاکر زکوۃ ادا کرے۔
وجملة الكلام في الديون أنها على ثلاث مراتب في قول أبي حنيفة: دين قوي، ودين ضعيف، ودين وسط كذا قال عامة مشايخنا. أما القوي فهو الذي وجب بدلا عن مال التجارة كثمن عرض التجارة من ثياب التجارة، وعبيد التجارة، أو غلة مال التجارة ولا خلاف في وجوب الزكاة فيه إلا أنه لا يخاطب بأداء شيء من زكاة ما مضى ما لم يقبض أربعين درهما، فكلما قبض أربعين درهما أدى درهما واحدا..... وذكر الكرخي أن هذا إذا لم يكن له مال سوى الدين، فأما إذا كان له مال سوى الدين فما قبض منه فهو بمنزلة المستفاد فيضم إلى ما عنده والله أعلم. (بدائع الصنائع،كتاب الزكوة، ج:2، ص:392)
وبيان ذلك أنه إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرون مثقال ذهب، فلم يؤد زكاته سنتين يزكي السنة الأولى، وليس عليه للسنة الثانية شيء عند أصحابنا الثلاثة. (بدائع الصنائع، كتاب الزكوة، ج:2، ص:387)
هنا فروع لم أرها الآن:الأول لو كان عليه دين وشك في قدره ينبغي لزوم إخراج القدر المتيقن. (الأشباه والنظائر لابن نجيم، ج:1، ص:197)