بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کسی دوسرے کی عبارت یا حکایت نقل کرنے پر طلاق کا حکم


سوال

اگرکوئی شخص کتاب سےعبارت نقل کرتے ہوئے یا کسی اور کی قسم اور طلاق کے الفاظ دہراتے ہوئے ’’میری بیوی کو طلاق‘‘ کے الفاظ زبان سے ادا کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ طلاق کے وقوع کے لئے بیوی کی طرف طلاق کی نسبت کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی طلاق کے الفاظ نقل کرے یا کسی کی حکایت کرے، تواس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔

صورت مسئولہ میں اگر کوئی شخص کسی کتاب سے عبارت نقل کرتا ہو یا کسی دوسرے کی قسم یا طلاق کے الفاظ دہرا رہا ہو، اوراس دوران ’’میری بیوی کو طلاق‘‘ جیسےالفاظ بولے، توجب تک وہ اپنی بیوی کی طرف نسبت نہ کرے، اس وقت تک اس پر طلاق واقع نہیں ہوتی۔ البتہ اگر اپنی بیوی کی طرف نسبت کرے تو اس صورت میں طلاق واقع ہوگی۔

 

لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله كما أفاده في الفتح الخ۔(ردالمحتار علی الدر المختار، کتاب الطلاق، ج3،ص250)

حكى يمين رجل فلما بلغ إلى ذكر الطلاق خطر بباله امرأته إن نوى عند ذكر الطلاق عدم الحكاية واستئناف الطلاق وكان موصولا بحيث يصلح للإيقاع على امرأته يقع لأنه أوقع وإن لم ينو شيئا لا يقع لأنه محمول على الحكاية۔(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب الاول، فصل فيمن يقع طلاقه، ج:1،ص:353)


فتویٰ نمبر : 7359/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور