بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
دو عورتوں کا آپس میں ایک دوسرے کے لئے قصر کرنا
سوال
دو عورتوں نے عمرہ ادا کیا جب بال کاٹنے کی باری آئی تو ایک نے دوسری کے بال کاٹے اور دوسری عورت نے پہلی عورت کے بال کاٹے اس کے بعد انہوں نے اپنا اپنا احرام کھول دیا ۔اب واپس گھرآئے تو پتاچلا کہ حالت احرام میں ایسا نہیں کر سکتی جو عورت بنا احرام کے ہو اس سے بال کٹوانے تھے احرام والی ایک دوسری کے بال نہیں کاٹ سکتی۔ اب کیا ان کو دم دینا ہوگا ؟اگر ہاں تو واپس مکہ میں جانا ہوگا یا پاکستان میں ہی ادا ہو سکتا ہے اور کیا دینا ہوگا؟
جواب
اگر کوئی عمرہ کرنے والا افعال عمرہ سے فارغ ہوجائے صرف حلق یا قصر کرنا باقی ہو تو اس کا خود اپنا یادوسرے کے بال کاٹنا شرعا جائزہے ،اس سے دم لازم نہیں ہوتا۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق ایک عورت کا افعال عمرہ ادا کرنے کے بعد دوسری عورت کے بالوں میں قصر کرنے سے اس پر کوئی دم لازم نہیں ہوا۔
ولو حلق رأسه أو رأس غیرہ من حلال أو محرم جازله الحلق لم یلزمھما شیٔ۔ (غنيةالناسک،ص253)
(وإذا حلق) أی المحرم (رأسه) أی رأس نفسه(أو رأس غیرہ) أی ولو کان محرما (عند جواز التحلل) أی الخروج من الاحرام بأداء أفعال النسک (لم یلزمه شیٔ) الأولی لم یلزمھما شیٔ وھذا حکم یعم کل محرم فی کل وقت.( (إرشاد الساري إلی المناسك لملا علی القاری،ص: 174)