بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

جھوٹ بول کر یہ کہنا کہ میں نے بیوی کو طلاق دی ہے


سوال

میں برطانیہ میں رہتا ہوں، کچھ عرصہ  پہلے میں آن لائن فیسبک پر لڑکیوں  سے chatingکرتا تھا ،میں کئی  لڑکیوں سے بات چیت کرچکا ہوں ،جب میں ان سے اپنا تعارف کراتا ،تو کبھی میں کسی کو کہتا کہ میں سنگل ہوں ،کبھی  میں کسی کو کہتا (I am divorsed) یعنی میں  طلاق یافتہ  ہو،لیکن میں کبھی اپنے ذہن میں  نہیں سوچتا تھا کہ میں یہ سب کچھ اپنی بیوی کے بارے میں کہہ رہا ہوں ،اور نہ ہی کبھی میں نے اپنی  بیوی کا نام ان کو لیا ۔اسی طرح کبھی میں لڑکی کو کہتا کہ میں اور میری بیوی علیحدہ ہوچکے ہیں ،لیکن میں نے کبھی اپنی بیوی سے علیحدگی کا نہیں سوچا تھا،تو کیا میرے ان الفاظ سے میری بیوی پر طلاق ہوچکی ہے یا نہیں ؟

جواب

‌واضح رہے کہ  اپنی بیوی کو نسبت کرکے ایسے الفاظ استعمال کرنے سے جو صراحتا یا کنایۃ طلاق اور علیحدگی پر دلالت کرتے ہوں،بیوی پر طلاق واقع ہوجاتی ہے،نیز اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے متعلق کسی کے سامنے جھوٹ بول کر یہ کہے کہ : میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے،تو اگر اس کا مقصد کسی گزشتہ طلاق کی جھوٹی خبر ہو ،تو قضاء  یعنی اگر معاملہ عدالت میں چلا جائے ،تو اس سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ،البتہ   دیانۃ(یعنی  فی ما بینہ و بین اللہ ،جب یہ شخص  اس  بات میں سچا ہو،کہ میرا مقصد جھوٹی خبر دینی تھی) یہ اپنی بیوی اپنے پاس رکھ سکتا ہے ،اور اس پر کوئی طلاق نہیں ہوگی۔

صورت مسئولہ میں سائل کے  یہ الفاظ"میں سنگل ہوں" محض جھوٹ ہے ،اور اس سے بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی،البتہ یہ الفاظ" I am divorsed)" اور یہ الفاظ"میں اور میری بیوی علیحدہ ہوچکے ہیں" طلاق کے بارےمیں  جھوٹی خبر ہے،اورطلاق کے متعلق جھوٹی خبر دینے میں اگر سائل دل میں سچا ہو،اور محض جھوٹی خبر دینے کا ارادہ ہو ،تو  اس طرح الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔

 

سئل فقيل له هل لك امرأة فقال لا فإن قال ‌أردت ‌به ‌الكذب يصدق في الرضا والغضب جميعا ولا يقع الطلاق وإن قال نويت الطلاق يقع في قول أبي حنيفة.(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الثاني،الفصل الخامس في الكنايات،ج:1،ص:375)

وقيدنا بالإنشاء لأنه لو أكره على أن يقر بالطلاق فأقر لا يقع كما لو أقر بالطلاق هازلا أو ‌كاذبا.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الطلاق، ج:3، ص:264)

(سئل) في رجل سئل عن زوجته فقال أنا طلقتها وعديت عنها والحال أنه لم يطلقها بل أخبر كاذبا فما الحكم؟ (الجواب) : لا يصدق قضاء ويدين فيما بينه وبين الله تعالى وفي العلائي عن شرح نظم الوهبانية قال أنت طالق أو أنت حر وعنى به ‌الإخبار كذبا وقع قضاء إلا إذا أشهد على ذلك. اهـ. وفي البحر الإقرار بالطلاق كاذبا يقع قضاء لا ديانة. اهـ. وبمثله أفتى الشيخ إسماعيل والعلامة الخير الرملي.(العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية، كتاب الطلاق، ج:1، ص:40)

قال: ‌أنت ‌طالق ‌أو ‌أنت ‌حر وعنى الاخبار كذبا وقع قضاء، إلا إذا أشهد على ذلك، وكذا المظلوم إذا أشهد عند استحلاف الظالم بالطلاق الثلاث أنه يحلف كاذبا صدق قضاء وديانة. شرح وهبانية.(الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الطلاق، باب طلاق غير المدخول بها، ص:213)

ولو أقر بالطلاق وهو كاذب وقع في القضاء اهـ. وصرح ‌في ‌البزازية ‌بأن ‌له ‌في ‌الديانة ‌إمساكها ‌إذا ‌قال ‌أردت ‌به ‌الخبر ‌عن ‌الماضي ‌كذبا، وإن لم يرد به الخبر عن الماضي أو أراد به الكذب أو الهزل وقع قضاء وديانة واستثنى في القنية من الوقوع قضاء ما إذا شهد قبل ذلك لأن القاضي يتهمه في إرادته الكذب فإذا أشهد قبله زالت التهمة(البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الطلاق، ج:3،ص:264)


فتویٰ نمبر : 7358/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور