بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
بغیر لائسنس گاڑی چلانے پر ٹریفک جرمانے سے بچنےکے لیے کچھ رقم دینا
سوال
اگر کوئی ڈرائیور بغیر لائسنس یا مکمل کاغذات کے گاڑی چلاتا ہے، اور راستے میں ٹریفک پولیس چیکنگ کے دوران اسے روکتی ہے، تو وہ پولیس اہلکار کو کچھ رقم دے کر پرچہ سے بچ جاتا ہے کیا اس طرح ٹریفک پولیس اہلکار کو پیسے دینا شرعاً جائز ہے؟
جواب
واضح رہے کہ کسی ملک کے جائز قانون کے خلاف ورزی کی صورت میں عائد سزا سے بچنے کے لیے پولیس کو کچھ رقم دینا رشوت کہلاتا ہے اور حدیث شریف میں آپﷺنے رشوت دینے والے اور لینے والے دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق بغیر لائسنس یا بغیر کاغذات کے گاڑی چلانا قانون کی خلاف ورزی ہے، اور اس صورت میں عائد جرمانہ سے بچنے کے لیے پولیس اہلکار کو کچھ رقم دینا رشوت ہے۔ اس لیے اس رقم کا دینا اور لینا دونوں حرام ہے۔
الرشوة على وجوه أربعة منها ما هو حرام من الجانبين، وذلك في موضعين: أحدهما إذا تقلد القضاء بالرشوة حرم على القاضي والآخذ… الثاني إذا دفع الرشوة إلى القاضي ليقضي له حرم من الجانبين سواء كان القضاء بحق أو بغير حق. (البحر الرائق، کتاب القضاء، أخذ القضاء بالرشوة، ج:6، ص:285)