بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
امام کا رکوع اور سجدے میں تین بار سے زائد تسبیحات پڑھنا
سوال
اگر کوئی امام رکوع اور سجدے میں تین بار سے زیادہ تسبیحات پڑھتا ہو جس کی وجہ سے بعض مقدیوں کو نا گواری ہو، تو امام صاحب کے لیے تسبیحات کا رکوع اور سجدے میں تین سے زیادہ مرتبہ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ امام اور منفرد دونوں کے لیے رکوع اور سجدے میں تسبیحات کا تین بار سے کم پڑھنا مکروہ ہے۔ اسی طرح امام کے لیے تین بار سےزائد تسبیحات پڑھنا بھی اس وقت مستحب نہیں جب نماز میں اس وجہ سے طوالت آتی ہو اور اگر طوالت نہ آتی ہو تو پانچ مرتبہ تک پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
وصرحوا بأنه يكره أن ينقص عن الثلاث وأن الزيادة مستحبة بعد أن يختم على وتر خمس أو سبع أو تسع ما لم يكن إماما فلا يطول. (رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج:1، ص:494)