بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مکی کا مسجدعائشہ سے بغیر احرام کے واپس مکہ جانا


سوال

اگر مکہ مکرمہ میں مقیم کوئی شخص مسجدِ عائشہ (تنعیم) یا مسجدِ جِعرانہ صرف زیارت کی نیت سے جائے، عمرہ کی نیت نہ ہو، پھر زیارت کے بعد مکہ مکرمہ واپس آجائے، توکیا اس پر واپسی کے وقت احرام باندھ کر عمرہ کرنا ضروری ہوگا؟اور اگر وہ احرام باندھے بغیر واپس آجائے اور عمرہ نہ کرے، تو کیا اس پر دم واجب ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مسجدعائشہ حل میں ہے ، اور مکہ مکرمہ سے جب کوئی حل کی طرف جائے تو واپس حرم آتے ہوئے اگر عمرہ یا حج کاارادہ نہ ہوتو احرام ضروری نہیں، بلا احرام آسکتاہے۔

لہٰذاصورت مسئولہ کے مطابق جب مکہ مکرمہ میں مقیم شخص مسجد عائشہ یا مسجد جعرانہ صرف زیارت کی نیت سے جائے اور عمرہ کی نیت نہ ہو تو واپسی کے وقت احرام باندھنا ضروری نہیں اور بغیر احرام لوٹنے کی صورت میں اس پر کوئی دم بهی واجب نہیں ہوگا۔

 

المكي إذا خرج إلى الحل للاحتطاب أو الاحتشاش ثم دخل مكة ‌يباح ‌له ‌الدخول ‌بغير ‌إحرام، وكذلك الآفاقي إذا صار من أهل البستان كذا في محيط السرخسي. (الفتاوى الهندية، كتاب المناسك، الباب الثالث في الإحرام،ج:1، ص:221)


فتویٰ نمبر : 6590/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور