بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ثناء پڑھنے کے دوران امام کا قرا ءت شروع کرنا


سوال

نماز باجماعت کے دوران جب میں ثناء (سبحانک اللہم...) پڑھ رہا ہوتا ہوں، تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میں "وتعالىٰ جدك ولا إله..." تک پہنچتا ہوں کہ اسی دوران امام صاحب سورۃ الفاتحہ کی قراءت شروع فرما دیتے ہیں۔ اب ایسی حالت میں: کیا میں فوراً خاموش ہو کر امام کی قراءت سننے لگ جاؤں؟ کیا اس میں "قراءت سننے" کی فرضیت یا وجوب کے درجے کا لحاظ کرنا ضروری ہے؟واضح رہے کہ یہ کیفیت بارہا پیش آتی ہے، اس لیے شرعی رہنمائی درکار ہے تاکہ آئندہ صحیح طریقہ پر عمل ہو سکے۔

جواب

واضح رہے کہ ثنا  نماز کے سنن میں سے ہے جب کہ قراءت سننا واجب ہے۔لہذا اگر کوئی ثناء پڑھ رہا ہو اور ابھی اسےپورا نہ کیا ہو کہ امام نے قراءت شروع کردی تو ثناء کو جتنا پڑھا ہو وہی کا فی ہےاس لیےخاموش ہو جا ئے گا۔

 

(سننها) رفع اليدين للتحريمة، ونشر أصابعه، وجهر الإمام بالتكبير، والثناء، والتعوذ، والتسمية، والتأمين سرا. (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الفصل الثالث في سنن الصلاة وآدابها وكيفيتها، ج:1، ص:72)

(وقرأ) كما كبر (سبحانك اللهم تاركا) وجل ثناؤك إلا في الجنازة (مقتصرا عليه) فلا يضم: وجهت وجهي إلا في النافلة، ولا تفسد بقوله - {وأنا أول المسلمين} [الأنعام: 163]- في الأصح (إلا إذا) شرع الإمام في القراءة سواء(كان مسبوقا) أو مدركا (و) سواء كان (إمامه يجهر بالقراءة)أو لا(ف) إنه (لا يأتي به) لما في النهر عن الصغرى: أدرك الإمام في القيام يثني ما لم يبدأ بالقراءة .(الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ص:67)


فتویٰ نمبر : 10856/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور