بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
ملازمت میں ترقی کے لیے رشوت دینا
سوال
میں ایک ملازم ہوں اور ہمارے شعبہ میں پروموشن(ترقی) ہورہا ہے،میں نے پوری کوشش کی،لیکن افسران بالا بغیر رشوت کے مجھے پروموشن نہیں دے رہےہیں،حالانکہ قانونی طور پراُس عہدہ کےلیے میں اہل ہوں اور میرا حق بنتا ہے۔کیا میں اس پروموشن کے لیے رشوت دے سکتا ہوں یا نہیں؟
جواب
واضح رہےکہ رشوت دےکرناجاِئزطریقےسےاپنےمقصدکوحاصل کرنایاکسی حق دارکاحق چھیننا عظیم گناہ ہے،اس لیےہرمسلمان کےلیےرشوت دینےاورلینےسےاپنےآپ کوبچاناانتہائی ضروری ہے،لیکن اگرکوئی شخص کسی چیزکاحق دارہو،اوررشوت کےبغیراس کی وصولی ممکن نہ ہو،توفقہائے کرام کےہاں ایسی حالت میں رشوت دےکراپنےحق کووصول کرنےکی گنجائش ہے،البتہ رشوت لینےوالےکےلیےرشوت لیناہرصورت میں ناجائزاورحرام ہے۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق اگرسائل واقعی قانوناًاس پروموشن کااہل اوردیگر سب امیدواروں کی نسبت زیادہ مستحق ہو،اس کےباوجودافسرانِ بالاترقی نہیں دیتے،تواس صورت میں رشوت دینےکی گنجائش ہےلیکن لینے والے کےلیے بہرحال حرام ہے،اوراگرقانوناًحق نہ بنتاہویا کوئی دوسرا زیادہ حق دار ہو،توپھررشوت دینااورلینادونوں حرام ہیں۔
لا بأس بالرشوة إذا خاف على دينه والنبي عليه الصلاة والسلام .كان يعطي الشعراء ولمن يخاف لسانه.قال ابن عابدین:دفع المال للسلطان الجائرلدفع الظّلم عن نفسه وماله ولاستخراج حق له لیس برشوۃ.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الحظروالإباحة،باب الاستبراءوغيره، ج:9،ص:607)
ومنها إذا دفع الرشوة خوفا على نفسه أو ماله فهو حرام على الآخذ غير حرام على الدافع.( البحر الرائق، «أخذ القضاء بالرشوة»، ج:6، ص:285)