بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
اپنی بیوی کو تین مرتبہ" میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کہنا
سوال
میاں بیوی کے درمیان پہلے ہی سے تعلقات کشیدہ تھے۔ ایک دن بیوی نے شوہر کو فون کیا، تو دورانِ گفتگو شوہر نے بیوی سے کہا: "کیا تم مجھ سے طلاق چاہتی ہو؟" میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" اور یہ الفاظ اس نے تین مرتبہ کہے۔ اس واقعے کے بعد چار ماہ گزرچکے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ:1. کیا شوہر کے ان الفاظ سے شرعاً طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں ؟ 2.اور اگرطلاق واقع ہو چکی ہو تو دوبارہ نکاح کی گنجائش ہے یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ اپنی بیوی کو صریح الفاظ کے ساتھ طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔اگر طلاق کے الفاظ متعدد ہوں تو طلاقیں بھی متعدد واقع ہوں گی۔
لہذا صورت مسئولہ میں جب شوہر نے بیوی کو فون کے ذریعے تین بار" میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کہا،تواس سے بیوی کوتین طلاقیں واقع ہوگئیں،لہٰذا وہ شوہر پرحرمت مغلظہ کےساتھ حرام ہوگئی۔اب اگر مطلقہ عدت گزار کر کسی دوسرے شخص کے ساتھ نکاح کرے اور اس دوسرے شوہر سے صحبت (جسمانی تعلق) ہوجائے، اس کے بعد وہ دوسرا شوہر اسے طلاق دے دےیا اس کا انتقال ہوجائے توعدت گزارنےکے بعداس پہلے شوہرکے ساتھ دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔
كررلفظ الطلاق وقع الكل وإن نوى التأكيد دين۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار،باب طلاق غیرالمدخول بھا،ج:4، ص:521)
أما الصريح فهو اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح، وهو لفظ الطلاق أو التطليق۔(بدائع الصنائع،كتاب الطلاق، فصل في شرط النيةفي الکناية،ج:4،ص:216)
وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا۔(الفتاوی الهندية،كتاب الطلاق، الباب الثانى،الفصل الاول في الطلاق الصريح،ج:1،ص:423)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية۔ (الفتاوٰی الھندية،کتاب الطلاق،الباب السادس،ج:1،ص:535)